خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 184

خطبات طاہر جلد اول 184 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء ہیں انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔چنانچہ یہ چیزیں سکول کی تعلیم کی طرح بتانا چاہئیں۔الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد الله اکبر اللہ اکبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله و الله اکبر الله اكبر ولله الحمد اس سے مجھے یہ یاد آیا کہ کسی نے آج صبح میری توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ میں مساجد کے آداب کے بارہ میں بھی کچھ کہوں۔جو لوگ نماز کے لئے مسجد آتے ہیں ان کے بارہ میں میرے ایک بہت معزز دوست نے بتایا کہ آہستہ آہستہ لوگ مسجد کے تقدس سے ناواقف ہوتے جا ر ہے ہیں اور ایسی حرکتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔مساجد میں یہ لوگ دنیوی باتیں اونچی آواز میں شروع کر دیتے ہیں۔جبکہ بعض لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔انہیں کوئی احساس ہی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کا گھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہے اور کسی کام کے لئے نہیں۔وَأَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا (الجن : 19) یہ قرآن کریم کی آیت ہے جس کے مطابق عبادت گاہیں صرف عبادت کے لئے ہی ہیں۔آپ کو مساجد میں اپنے ذاتی مسائل پر گفتگو نہیں کرنی چاہئے۔صرف مذہبی گفتگو ہوسکتی ہے اور وہ بھی نماز ختم ہونے کے بعد، اس وقت نہیں جب لوگ نماز پڑھ رہے ہوں ، دیگر مذہبی معاملات پر گفتگو کی اجازت ہے۔چنانچہ یہ وہ آداب اور ذمہ داریاں ہیں جو مساجد میں پیش نظر رہنی چاہئیں۔آپ صرف اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔اپنے دلوں میں اسے یاد کریں یا نسبتا اونچی آواز میں۔اس کی تو اجازت ہے۔مگر یہ اجازت نہیں کہ آپ مختلف قسم کی گفتگو اور گپ شپ میں وقت گزاریں جیسے یہ آپ کے لئے ایک چوپال ہے۔یہ چوپال نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور یہاں اسے ہی یاد کرنا چاہئے۔اور یہ بات اپنی نئی نسل کو بھی سمجھا ئیں۔خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین۔