خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 183
خطبات طاہر جلد اول 183 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء لئے بہت محنت کرنی پڑتی تھی اور روشنی کی طرف لانا پڑتا تھا۔بالآخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بچ گئے۔مگر یہ ہو سکتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔اس ملک میں آپ کو اس بات کی حفاظت کرنی ہے۔چنانچہ ایک نظام بنانا پڑے گا۔امام صاحب کے پاس اس کا ریکارڈ ہو اور ہم عام طریق سے اسے چلائیں۔ہمیں سائنسی طریق کا راختیار کرنا ہے اور جب یہ خطبہ باقی دنیا کے احمدیوں تک پہنچے تو انہیں بھی اس طریق پر عمل کرنا چاہئے۔مجھے اس بارہ میں اتنا جوش ہے کہ اصل میں میں اسے ابھی اور یہاں سے ہی شروع کر دینا چاہتا ہوں۔مگر یہ ممکن نہیں۔اس میں کچھ وقت لگے گا۔مگر انشاء اللہ ایک سال کے عرصہ میں ہی ہم اس نئے آسمانی نظام کو دنیا میں کام کرتا دیکھ لیں گے۔اور ساری دنیا کو محسوس ہو جائیگا کہ کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔اور وہ ان الفاظ میں اپنی شکست تسلیم کر لیں گے۔وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدً اوَّشُهُبَّان وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدَّان (اين۔۔۔) اللہ تعالیٰ ہمیں مواقع اور ہمت عطا فرمائے کہ ہم اس عظیم مقصد کو اس صورت میں حاصل کرنے والے ہوں جیسا کہ وہ چاہتا ہے۔نماز کے بعد حضور نے فرمایا۔دراصل یہ آنحضور ﷺ کی سنت ہے کہ حج کے دن سے ایک روز قبل نماز عصر کے بعد سے آپ اللہ اکبر الله اکبر لا اله الا الله والله اكبر الله اکبر ولله الحمد کی تسبیحات اونچی آواز میں پڑھا کرتے تھے اور اگلے اڑھائی یوم آپ ہر نماز کے بعد اسی طرح کیا کرتے تھے۔چنانچہ یہ تیسرا دن ہے جس میں ہم عصر تک یہ دہرائیں گے۔اس لیے ہر آنے والی نسل کو یہ باتیں بتانا چاہئیں۔آنحضور ملانے کی تمام احادیث نسلاً بعد نسل آگے پہنچنتی دینی چاہئیں۔مگر یہاں انگلستان میں بدقسمتی سے میں نے دیکھا ہے کہ ہماری نئی نسل ان سے واقف نہیں۔اور جب میں نے یہ تکبیرات پڑھنا شروع کیں تو کسی نے میری اقتدا میں یہ نہیں پڑھیں۔حتی کہ وہ بچے جو نو جوانی کی عمر کو پہنچ چکے