خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 110
خطبات طاہر جلد اول 110 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء نہیں جانتے کہ واپس جا کر ان کا کیا بنے گا۔بعض دوستوں کے حالات جرمنی میں ایسے ہیں کہ ان کا سارا مستقبل بظا ہر مخدوش نظر آتا ہے لیکن جب خدا کی خاطر ان کو اپنے پاک مالوں سے جدا ہونے کی اپیل کی جاتی ہے جو انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ پاکیزہ رزق کے طور پر کمائے ہوتے ہیں تو بڑے کھلے دل کے ساتھ وہ خدا کی راہ میں ان عزیز مالوں سے جدا ہوتے ہیں۔وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ ہمارا کیا بنے گا۔میں ان کو بتا تا ہوں کہ ان کا وہی بنے گا جو ہمیشہ خدا کے بندوں کا بنا کرتا ہے۔اللہ ہی ہے جوان کا کفیل ہے اللہ ہی تھا جو ان کا کفیل تھا اور اللہ ہی ہے جو آئندہ بھی ہمیشہ ان کا کفیل رہے گا۔ان کی قربانیاں ان کے مستقبل کی ضمانتیں ہیں اور اس سے بہتر ضمانت دنیا میں اور کسی قوم کو نصیب نہیں ہوسکتی۔وہ لوگ جو خدا کی راہ میں قربانیوں سے نہیں ڈرا کرتے اللہ خود ان کا نگہبان ہو جاتا ہے۔وہ خودان کا نگران بن جاتا ہے۔جرمنی میں پریس کانفرنسز میں لوگوں کے پوچھنے پر میں ان کو بتا تا رہا کہ یہ انگوٹھی ( جوحضور نے اس وقت پہن رکھی تھی۔مرتب) وہ انگوٹھی ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں میں تھی۔میں ایک گنہگار اور عاجز انسان ہوں۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ مقدس انگوٹھی اس گنہگار کی انگلی میں آئے گی۔لیکن خدا کی تقدیر نے یہی ظاہر فرمایا۔اس انگوٹھی کا پیغام وہی پیغام ہے جو میں آپ کو دے رہا ہوں۔ایک وقت تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے دنیوی معاملات کی کچھ بھی خبر نہیں تھی۔کچھ پتہ نہیں تھا کہ جائیداد کیا ہے۔کتنی ہے۔کون قابض ہے۔دنیا کے نظام کیسے چلتے ہیں۔آپ اللہ کے لئے خالصہ وقف ہو چکے تھے۔اس وقت ایک شام آپ کو یہ الہام ہوا۔وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ کتاب البریه، روحانی خزائن جلد 13 ص 193 ) کہ رات کو آنے والا ایک حادثہ ہے اور تمہیں کیا پتہ ہے کہ وہ حا دثہ کیا ہے۔یہ سنتے ہی آپ کی توجہ اپنے والد کی طرف منتقل ہوئی جو بہت بیمار تھے اور معا یہ خیال گذرا کہ خدا تعالیٰ مجھے یہ اطلاع دے رہا ہے کہ آج رات تمہارے والد اس جہان فانی سے کوچ کر جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں کہ اُس وقت میرے دل میں اک وہم سا گذرا اور فکر کا ایک سایہ سا آیا کہ میرے والد ہی تو میرے کفیل تھے اور دنیا کی مجھے کچھ خبر نہیں۔اپنے بھائیوں اور عزیزوں سے مجھے کوئی توقع نہیں۔اب میرا کیا بنے گا۔جب یہ خیالات آپ کے دل میں