خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد اول 109 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء کی جماعت اس پہلو سے خدا کا ایک زندہ نشان ہے۔اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے میں نے ۱۹۷۴ ء سے پہلے کا چندے کا ریکارڈ نکلوایا اور پھر ۷۴ء کے بعد کے چندے کا ریکارڈ دیکھا تو یوں معلوم ہوا کہ پہلے دور کو بعد کے دور سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔یہ وہ ملک ہے جہاں کی جماعت احمد یہ بعض اوقات خود کفیل بھی نہیں ہوتی تھی اور جسے باہر کی جماعتوں کے ذریعہ مدد دینی پڑا کرتی تھی اور جو تھوڑا سا چندہ آہستہ آہستہ بڑھتا رہا وہ بمشکل اس مقام تک پہنچا کہ یہ جماعت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔پھر وہ زلزلے آئے جن کا میں نے ذکر کیا۔پھر اللہ کی راہ کے مہاجرین اپنے ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اس ملک میں آکر اللہ کے فضلوں اور رحمتوں کے سہارے پر انہوں نے پناہ لی۔خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا سایہ وہ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ دیکھتے دیکھتے اس ملک کی جماعت احمدیہ کی کایا پلٹ گئی۔چنانچہ یہ جماعت جو بعض دفعہ اپنے کام چلانے کے لئے دوسری جماعتوں کی مرہون منت ہوا کرتی تھی نہ صرف خود کفیل ہو گئی بلکہ اس نے کئی دوسری جماعتوں کے بوجھ اٹھالئے اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے یورپ کی ان جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جو اپنے بوجھ اٹھانے کے بعد باہر کی جماعتوں کے بوجھ بھی اٹھا رہی ہیں۔چنانچہ جہاں کہیں بھی سلسلہ کو ضرورت پیش آتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی کی جماعت کے چندہ میں سے ایک خطیر رقم اس طرف منتقل کر دی جاتی ہے۔پس یہ ہے وہ الہی نشان اور اس کے فضلوں کا وہ پہلو جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ اپنے رب کے شکر گزار بندے بنیں۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جرمنی کی جماعت کے اکثر نو جوان بڑی مشکلات میں سے گزر رہے ہیں اور گزرتے رہے ہیں۔میرے دل میں ان کے لئے خاص طور پر محبت کے جذبات موجزن ہیں اس لئے کہ انہوں نے پیش آمدہ مشکلات کے باوجود خدا کے حقوق ادا کئے اور سخت مشکلات میں سے گزرتے رہنے کے باوجود حمد باری سے ان کے سینے معمور اور یا دالہی سے ان کی زبانیں تر رہیں اور جب کبھی خدا کی خاطر ان سے مالی قربانی کی اپیل کی گئی تو انہوں نے اس بارہ میں کسی قسم کی کنجوسی نہیں دکھائی۔بہت سے ایسے دوست بھی ہیں جو خدا کے فضل سے موصی ہیں جو شرح کے مطابق اپنے چندے ادا کرتے ہیں۔ان کے حالات اپنے ملک میں ایسے ہیں کہ وہ