خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد اول 99 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء ہو۔اگر انبیاء کا رستہ چھوڑ دو گے، اگر یہ وسیلہ اختیار نہیں کرو گے تو پھر کائنات کا ذرہ ذرہ بھی حسن سے بھر جائے تمہاری آنکھیں اندھی کی اندھی رہیں گی۔قدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ اور سب سے زیادہ بصیرتیں تم پر نازل ہو گئیں، کس شکل میں؟ اب بغیر بتانے کے کون داخل ہو گیا؟ بصیرت کا مجسمہ حضرت محمد مصطفی ہے۔وہ اس مضمون میں داخل ہو جاتے ہیں اور اچانک وہ کلام شروع کر دیتے اور فرماتے ہیں وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ۔میں ہوں خدا کا نور ، میں ہوں بصیرتوں کا وہ منبع اور بصیرتوں کا وہ مظہر اتم جس نے تمہیں بصیرتیں عطا کی ہیں وہ میں ہی ہوں۔میں آ گیا ہوں۔اب اگر چاہو اسلام قبول کر کے خود بھی بصیرت حاصل کرو اور دنیا کو بھی نور عطا کرو اور چاہو تو اس سے منہ موڑ کر اندھے کے اندھے رہو۔اللہ تعالیٰ صرف یہاں پر بات ختم نہیں کرتا بلکہ اس سارے جھوٹے فلسفہ کا جواب ان آیات میں دیتا ہے جس کا میں نے اس خطبہ کی ابتدا میں ذکر کیا ہے۔دنیا دار کہتے ہیں کہ شرک سے بات شروع ہو کر تو حید پر جا کر ختم ہوتی ہے اور تو حید بالآخر خدا کے انکار پر منتج ہوتی ہے۔خدا بتا رہا ہے کہ حسن کے ذریعہ، حسن قدرت کے ذریعہ شرک پیدا ہی نہیں ہوا کرتا اور جب تک خدا کا برگزیدہ بندہ آکر یہ دکھا نہیں دیتا کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی ذات موجود ہے۔انسان کا تصور وہاں تک پہنچا ہی نہیں کرتا۔وہ آتا ہے اپنے پیغام کو مکمل کر جاتا ہے، خدائے واحد سے بنی نوع انسان کا تعلق جوڑ جاتا ہے۔جب وہ چلا جاتا ہے تو پھر شرک پھوٹتا ہے۔پھر یہ مناظر خدا کی جگہ لے لیتے ہیں اور کئی جھوٹے خدا بن جاتے ہیں اور یہ شرک دہریت پر منتج ہوا کرتا ہے۔تو حید دہریت پر منتج نہیں ہوا کرتی۔چنانچہ اس مضمون کو مکمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَ أَعْرِضْ عَنِ رِكِينَ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا وَمَا جَعَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكيْلٍ (الانوم:۱۹-۱۷) کہ تو نے لوگوں کو خدا تک پہنچا دیا لیکن خدا تک پہنچنے کے بعد انسان پھر شرک میں مبتلا ہونے والا ہے۔جب وہ تجھے چھوڑ دیں گے تو خدائے واحد کو بھی چھوڑ دیں گے۔جب وہ تجھ سے روگردانی کریں گے تو خدائے واحد سے بھی روگردانی کریں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ دنیا میں پھر شرک