خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 98

خطبات طاہر جلد اول 98 88 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء غائب میں بات کر رہا ہوتا ہے تو اس سے انسان کی توجہ ایسے نظاروں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہے جن کو دیکھنے کے بعد گویا خدا نظر آنے لگ جائے اور جب اس کیفیت تک دماغ پہنچ جاتا ہے تو اچانک وہ آپ آ موجود ہوتا ہے وہ پھر غائب نہیں رہتا۔کہتا ہے دیکھو! تم نے دیکھ لیا نا ہمیں۔لوہم تمہارے سامنے موجود ہیں۔ہم اب تم سے باتیں کرتے ہیں۔تصریف آیات کا ایک تو یہ طریق ہے۔ایک دوسرا طریق وہ ہے جس کی طرف میں اس آیت کی رو سے توجہ دلانا چاہتا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ تمہارے رب کی طرف سے بصائر آگئے۔تمہیں دکھانے کے لئے حکمتیں عطا ہو گئیں۔نور بصیرت عطا ہو گیا۔حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لئے معارف تمہیں مل گئے۔فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ جو چاہے اب دیکھ لے وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا لیکن جو اس کے باوجود اندھا رہے گا تو اس کا نقصان اسی کو ہے۔وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔وَمَا اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ اور میں تم پر حفیظ نہیں ہوں۔یہاں خدا کی بات چھوڑ کر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بات شروع ہو گئی۔گویا سارا کلام حضرت رسول کریم علیہ۔کا کلام تھا۔اب بظاہر ایک صرفی نحوی انسان جو جہالت کی آنکھ سے اپنے علم کو ہی غالب سمجھتا ہے وہ تو اس پر بڑا اعتراض کرے گا کہ یہ عجیب فصیح و بلیغ کلام ہے کہ ذکر ہو رہا ہے رب کریم کا پچھلے دورکوعوں میں حضرت رسول اکرم ﷺ کا کہیں ذکر نہیں۔ذکر چل رہا ہے خدا اور اس کی تخلیق کا۔ان حسین مناظر کا ذکر ہے جو قدرت خداوندی سے ظاہر ہوتے ہیں اور بات اللہ کر رہا ہے کبھی ضمیر کو اپنی طرف پھیر کر کبھی غائب میں اپنا کر کر کے۔یہ محمد مصطفیٰ آچانک بیچ میں کہاں سے آگئے۔گویا وہ کہہ رہے ہیں کہ اب میں ہوں تمہارے پیغام کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ رہا ہوں جس طرح کوئی آدمی کسی Message یا کسی فریضہ کTake Over کر لے اور پھر آگے سے اچانک بات شروع کر دے۔یہ آیت اسی قسم کی تعریف کا منظر پیش کرتی ہے کہ خدا کا ذکر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زبان سے جاری ہونے لگ جاتا ہے۔اس میں کیا حکمت ہے اسی میں وہ جواب ہے جس کی میں تلاش کر رہا تھا۔یہی وہ نکتہ ہے جس نے میری ساری الجھنیں دور کر دیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بصائر جو تم تک پہنچا کرتے ہیں وہ نبیوں کے ذریعہ پہنچتے ہیں اور نبیوں کے بغیر خدا کا کوئی وجود نہیں ہے جو تم پر ظاہر