خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 510 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 510

خطبات ناصر جلد نہم ۵۱۰ خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ء اس ملک کا ایمبسڈر، اس لڑکے کا باپ شکریہ ادا کرنے کے لئے آ گیا میرے پاس ، بڑا دکھ ہوا اس دن مجھے اور ان کے ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے۔اتنے جذباتی ہو چکے تھے، کوئی بات ہی نہیں نکلتی تھی کہ آپ نے اتنا احسان کیا ہے کہ ہمارے بچے کو پیار کیا ہے اور میں نے کوئی احسان نہیں کیا تھا اس پر، میں نے خدا تعالیٰ کا ایک حکم مانا تھا اور اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا کرتا ہے، اس بچے کا باپ بعد میں مشرقی افریقہ کے اس ملک کا وزیر بن گیا۔جب ہمارے مبلغ گئے تو کہنے لگا میں تو آپ لوگوں کو پہلے ہی جانتا ہوں۔آپ کی ہر قسم کی مدد کروں گا۔ایک پیار کا اتنا اثر۔اسی پیار نے کہ کوئی تفریق نہیں ہے انسان انسان میں، کئی لاکھ عیسائیوں کے دل جیت کے کلمہ پڑھا کے انہیں احمدی مسلمان بنایا اور لَا فَخْرَ ہمیں اس پر کوئی فخر نہیں۔یہ تو خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ اتنی چھوٹی سی جماعت، دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت ساری دنیا دشمنی پر اکٹھی ہوئی ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ہمیں ناشکرے نہیں بنا چاہیے اور ہر وہ کام خدا تعالیٰ کی راہ میں ہمیں آج کر دینا چاہیے۔جو غلبہ اسلام کی مہم مطالبہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا کرے۔آمین۔خطبہ ثانیہ سے قبل حضور نے فرمایا:۔کئی تھے احمدی ہوتے ہیں، کئی بچے جوان ہوتے ہیں ،اصل دستور یہ ہے کہ دو خطبوں کے درمیان بیٹھا جائے۔میں جب سے گھوڑے سے گرا ہوں میں بیٹھ نہیں سکتا اس طرح۔یہ میری مجبوری ہے ، اس واسطے میں نہیں کرتا۔ابھی ایک دو ہفتے ہوئے تو کسی نے (میرے اوپر تو اعتراض نہیں کیا ، حسن ظنی سے کام لیا لیکن یہ ضرور کہا کہ حضرت صاحب کو دیکھ کے، اگر خطبہ کوئی اور دے رہا ہو، اس نے بھی وہ روایت چھوڑ دی ہے۔ان کو تو نہیں چھوڑنی چاہیے۔میری ریڑھ کی جو ہڈیاں ہیں ناچھوٹی ان میں سے دو میں فریکچر ہو گیا تھا ٹوٹ گئی تھیں اور اس کی وجہ سے مجھے بڑالمبا عرصہ بارہ ، تیرہ ہفتے لٹایا گیا۔ڈاکٹروں کو بڑی فکر تھی اور اس کے نتیجہ میں بعض جگہ سختی آگئی ہے۔کئی مہینے مجھے بڑی شدید درد کا مقابلہ کر کے، اپنے کو اس قابل بنانا پڑا کہ میں سجدہ کرسکوں اور مسجد میں جاسکوں۔اس کے لئے بڑا مجاہدہ مجھے کرنا پڑا تھا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اس