خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 419
خطبات ناصر جلد نهم ۴۱۹ خطبه جمعه ۵ / مارچ ۱۹۸۲ء کی طرف خالص رجوع کرو۔تو بہ کرو اور تو بہ پر قائم رہو۔تو بہ زندگی کے چند لمحات کی کیفیت کا نام نہیں۔تو بہ ساری زندگی کے سارے ہی لمحات کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اس کی طرف جھکتے ہوئے ، غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے، ندامت سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ عاجزانہ اس سے مغفرت چاہتے ہوئے زندگی گزارنا اس کا نام ہے تو بہ۔اس کی دوشاخیں ہیں آگے ، عقیدہ اور عملاً، دونوں اس میں شامل ہیں یعنی خدا تعالیٰ کا عرفان رکھنا اور اس کی عظمتوں اور اس کے نور کو اس کے حسن کو سمجھتے ہوئے اور شناخت کرتے ہوئے اور اس سے دوری کے مضرات کو اور برائیوں کو جانتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرنا ، یہ عقیدہ تو بہ ہے یعنی آدمی کا یہ عقیدہ ہو کہ اگر میں خدا سے کٹ گیا اور تو بہ کا تعلق میرا اس سے نہ ہوا تو میں ہلاک ہو گیا لیکن اسلام محض فلسفہ نہیں۔حقیقی فلسفہ اسلام ہی ہے، اس میں شک نہیں لیکن اسلام محض فلسفہ نہیں۔یہ تو ہماری زندگی کا ایک حسین لائحہ عمل ہے جو ہمیں بتایا گیا جس پر چل کر ہماری زندگی خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہوتی اور اس کے حسن سے حسن حاصل کرتی ہے۔تو فرمایا جو حکم ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيكُمْ نَارا اس کا طریق تمہیں بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہر آن خالص طور پر کا ملتا رجوع کرتے رہو، اس کا نتیجہ نکلے گا۔اس مخلصانہ تو بہ کا پہلا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو تمہاری بدیاں ہیں (یہ اس آیت سے میں نے مضمون اٹھایا ہے۔میں عربی کے الفاظ نہیں دہراؤں گا ) ان کو وہ مٹادے گا تو بہ کے نتیجے میں۔تمہاری بدیوں کو وہ مٹاتا جائے گا تمہاری زندگی میں۔انسان ضعیف ہے غلطی کر جاتا ہے لیکن انسان کو متکبر نہیں ہونا چاہیے کہ سمجھنے لگے کہ میں غلطی نہیں کر سکتا۔اس لئے ہر آن اپنے خدا کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور تو بہ کرنی چاہیے اور ہر آن خدا کے فضل کو حاصل کر کے اپنی غفلتوں کو مٹاتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔تو بشارت یہ دی کہ تو بہ کرو گے تمہاری بدیوں کو مٹادیا جائے گا۔یہ منفی پہلو ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا ایک یہ پہلو ہے یعنی صاف کر دی جائے گی زمین بدیوں سے اور دوسرا یہ کہ تمہارے لئے جنت کا سامان پیدا کیا جائے گا۔قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ جنت دو ہیں۔ایک اس زندگی کی