خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 418
خطبات ناصر جلد نہم ۴۱۸ خطبه جمعه ۵ / مارچ ۱۹۸۲ء کرنے کے بعد اس کے غضب کے مستحق ہو جاؤ اور جو ایمان نہیں لائے ان کو بھی ہشیار کیا کہ ایک عظیم شریعت تمہاری بھلائی کے لئے نازل ہو چکی۔اس شریعت کے، اس دین کے احکام پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کی بڑی بشارتیں ہیں تمہارے حق میں۔اگر تم نہیں سنو گے ان بشارتوں سے محروم ہو جاؤ گے۔اگر تم سنو گے اور مانو گے اور عمل کرو گے اور قربانیاں دو گے تو جو انذاری پہلو ہیں ان کا اطلاق تم پر نہیں ہوگا۔جو بشارتیں ہیں ان کے تم مستحق ہو جاؤ گے۔قرآن کریم بھرا ہوا ہے انذار سے اور تبشیر سے۔اس وقت میں اس کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التَّحريم : ۷ ) اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل کو خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اھلِیکم کا ایک انداری پہلو یہ بھی بتایا کہ بعض دفعہ ایک انسان خود تو ایمان رکھتا ہے اپنے دل میں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بشارتوں کا مستحق ہوتا ہے لیکن اس کے اہل اس کے لئے فتنہ بنتے اور صراط مستقیم سے اسے دور لے جانے والے بن جاتے ہیں۔اس واسطے کسی ایک شخص کا یہ کہنا کہ میں صراط مستقیم پر قائم ہو گیا ہوں ، یہ کافی ہے؟ یہ اس لئے کافی نہیں کہ جو قریب ترین فتنہ اس کی زندگی میں ہے وہ اس کے گھر میں موجود ہے۔اس واسطے آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت کرنا ان نسلوں کی بھلائی میں بھی ہے اور اپنی بھلائی بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ انسان فتنے سے اپنے آپ کو بچائے اور خدا تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے اور جو پیارا سے حاصل ہوا وہ پیارا اسے اور اس کے خاندان کو مرتے دم تک اس دنیا میں حاصل رہے تا خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں گزرنے والی ابدی زندگی کے وہ مستحق بنیں۔۔سورة التحریم میں ہی نویں آیت میں ہے۔يَآيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا (التحریم : ۹) حکم تھا کہ خود اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل کو بچاؤ ، ان کی حفاظت کی کوشش کرو اور یہاں وہ طریقہ بتایا گیا () اس آیت میں بشارت ہے ) اور اس کی ابتدا یوں ہے کہ خدا تعالیٰ