خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 397
خطبات ناصر جلد نہم ۳۹۷ خطبہ جمعہ ۲۲ جنوری ۱۹۸۲ء لئے جائیں تو جماعت کا کام نہیں ہوتا۔اس لئے کہ جس وقت وہ ریٹائر ہوتے ہیں تو اپنی طاقت اور استعداد اور زور اور ہمت کا بہت سارا حصہ کسی اور پر قربان کر چکے ہوتے ہیں جہاں وہ نوکری کر رہے ہیں۔طاقت اور ہمت کے لحاظ سے (صرف ایک لفظ لے کے مثال دے رہا ہوں تا کہ آپ سمجھ جائیں) وہ اپنے وجود کے پچاس فیصد ہوتے ہیں اس وقت یا چالیس فیصد ہوتے ہیں یا تیس فیصد ہوتے ہیں۔وہ اپنی طاقت اور ہمت کے لحاظ سے اپنے وجود کے سو فیصد بہر حال نہیں ہوتے۔بعض بیماریاں ہیں جو اپنی ہی غلطیوں کے نتیجہ میں بڑی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں۔ان کے آثاران کے اندر پیدا ہو چکے ہوتے ہیں۔گھٹنے کی درد ہے، اعصاب کی کمزوری ہے اور اس قسم کی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق غلط کھانے ، غلط بوجھ برداشت کرنے ، غلط عادتیں پڑ جانے کے نتیجہ میں بڑی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں۔بہر حال اگر ان میں اخلاص ہو تو کچھ نہ کچھ کام لیا بھی جاسکتا ہے نہیں بھی لیا جا سکتا لیکن میں ان کی بات اس وقت نہیں کر رہا۔میں تو اس احمدی نوجوان کی بات کر رہا ہوں جوخدا اور اس کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں ، ان کے معیار کے مطابق بچے اور حقیقی احمدی ہیں اور مُؤْمِنُونَ حَقًّا کے گروہ میں یا شامل ہیں یا پورا جذ بہ رکھتے ہیں کہ اس میں شامل ہو جا ئیں۔تو جماعت کوشش کرے اور اس ضرورت کو پورا کرے ورنہ کوئی اور قوم کھڑی ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ کا منصوبہ ہے کامیاب ضرور ہوگا اگر پاکستان نہیں دے گا ، اگر ہندوستان نہیں دے گا، اگر موجودہ جو جماعت ہے وہ نہیں دے گی تو نئے آنے والے دیں گے، نئے آنے والے کئی بہت آگے نکل جاتے ہیں۔بعد میں آتے ہیں مگر پہلے آنے والوں کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں مگر ہر احمدی کے دل میں یہ خواہش ہونی چاہیے کہ بعد میں آنے والا اس سے آگے نہ نکلے ورنہ تو زندگی کا مزہ ہی کوئی نہیں اگر ہم نے اسی طرح بعد میں آنے والوں سے شکستیں کھا کھا کے خدا کے حضور پہنچنا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ اور فراست عطا کرے۔آپ کی نوجوان نسل کو ایمان ، اخلاص اور ایثار