خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 359 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 359

خطبات ناصر جلد نہم ۳۵۹ خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۱ء تو آزمائے جاتے ہیں۔میں بھی آزمایا گیا۔آپ بھی آزمائے گئے۔ابھی ایک سانحہ ہو گیا اور آج میں بے حد خوش ہوں اس لئے کہ گزشتہ رات میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میری تسکین کے تو سامان پیدا کر۔تو مجھے جنت کے نظارے دکھائے گئے اور ایک منٹ یا شاید اس سے بھی کم کے لئے منصورہ بیگم (نورَ اللهُ مَرْقَدَهَا) سے میری ملاقات کروائی گئی لیکن وہ جو نظارہ دیکھا اس میں ایک چیز میں نے یہ دیکھی کہ ہر آن اس کی شکل بدل رہی ہے۔وہ جو حدیث میں آیا ہے نا کہ صبح ایک مقام پہ ہو گا جنتی ، شام کو ایک اس سے بھی بلند مقام پہ ہوگا یعنی میرے دیکھتے دیکھتے رنگوں میں تبدیلی آرہی تھی یعنی میں ویسے اپنے احساس کے لحاظ سے وہاں ٹھہرا ہوں گا دس پندرہ منٹ لیکن ملاقات ہماری ایک منٹ سے زیادہ نہیں ہوئی اور جو کپڑے پہنے ہیں وہ پہنے پہنے ہیں۔یعنی جسم کے اوپر کپڑا ہے اس کا رنگ بدل رہا ہے، پہلے سے زیادہ خوب صورت ہو رہا ہے۔اس قسم کے نظارے اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائے اور تین جگہ ایسا ہوا کہ دربان رستہ روک کے کھڑے ہو گئے کہ باہر نہیں جاسکتے تو جو ساتھ میرے لگا ہوا تھا اس نے کہا یا یہ کہا کہ یہ باہر سے آئے ہیں یا یہ کہا کہ یہ باہر جانے والے ہیں تو اس نے رستہ دے دیا اور جس وقت میری آنکھ کھلی تو میں اپنے آپ کو وہیں سمجھتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے۔جتنا وہ مہربان ہے اتنا وہ عظیم بھی ہے۔جتنے ہم اس کی رحمتوں کے وارث بنتے ہیں اتنا ہی ہمیں ، اگر ہم حقیقی مومن ہیں اپنی عاجزی اور انکساری کا احساس بھی ہوتا ہے۔تو اس چیز کو جماعت کے کسی فرد، ساری جماعت کو چھوڑ نانہیں چاہیے۔اپنے آپ کو عاجز اور نالائق سمجھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا۔” میں اللہ کا ایک نالائق مزدور ہوں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن پر اس زمانہ میں ہم ایمان لائے وہ اعلان کریں کہ میں اللہ کا ایک نالائق مزدور ہوں اور ہم میں سے کوئی شخص یہ اعلان کرے کہ میں اللہ کا چہیتا بیٹا ہوں، بڑا ظلم ایسا شخص اپنے آپ پہ کر رہا۔اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے اپنے آپ کو اور اپنی نسل کو محروم کر رہا ہے ایسا شخص۔تو تکبر سے بچتے رہیں اور دعاؤں میں لگے رہیں۔ہمارا تو اس دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ایک ہی سہارا ہے، وہ ہمارا رب ہے۔اس سے مایوس