خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 326
خطبات ناصر جلد نهم ۳۲۶ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء بڑی دوڑ دھوپ کے بعد جنگ احزاب کے حالات پیدا ہوئے اور اللہ جلّ شانہ کا یہ نشان ( آیت ) ظاہر ہوا۔سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُرَ (القمر : ۴۶) سارے اکٹھے ہو کر آئے تھے تباہ کرنے کے لیے تباہ و برباد ہو کر چلے گئے وہاں سے۔اور انسان کے ہاتھ سے نہیں فرشتوں کے ہاتھ سے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوْ يَأْخُذَهُم فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ تم اللہ تعالیٰ کو نا کام نہیں کر سکتے اس کے منصوبے میں - اَوْ يَأْخُذَهُم عَلَى تَخَوفِ پنجابی میں کہتے ہیں بھورنا۔على تخوف کے بھی یہی معنی ہیں یا وہ انہیں آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے ، یہ دونوں طرح ہوتا ہے یا آگے نسل کم ہو جائے یا نسل مسلمان ہو جائے ، ایک ایک کر کے ، وہ مکہ جس کے سپوت اسلام کو مٹانے کے لئے باہر نکلتے تھے ان میں سے خالد بھی نکلا مگر اسلام کو مٹانے کے لئے نہیں اسلام کا جرنیل بننے کے لئے تو آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ، بھور بھور کے ان کی طاقت کو خدا کم کرتا چلا گیا اور اسلام کی طاقت اللہ بڑھاتا چلا گیا۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبیاء : ۴۵) ہم ان کے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کناروں کی طرف سے اس کو چھوٹا کرتے جارہے ہیں۔وہ اپنی تدبیر میں کامیاب کیسے ہونگے ہر دو کو اکٹھا کر کے ایک گلدستہ جس طرح بن جاتا ہے بہت خوبصورت کہ اَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخُوفِ یا وہ انہیں آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے۔اور یہ سارا کچھ کیوں کرے؟ اس لئے کہ جو تمہارا رب ہے وہ مومنوں پر بہت ہی شہ کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے جن مومنوں نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا ان کے ساتھ یہ اس کا سلوک ہے اور وہ ربّ ہے ربوبیت کرتا ہے اور ربوبیت کے لئے دو چیزوں کی ضرورت تھی۔اس کی شفقت کی اور اس کے رحم کی۔تم نے دیکھا نہیں کن عظیم مظاہروں کے ساتھ اس نے اپنی شفقت کا ، اپنے پیار کا بھی اظہار کیا اور اپنی رحمتوں کی بارش بھی کی مسلمانوں پر۔یہ اُمت مسلمہ کے ساتھ پیشگوئیاں لگی ہوئی ہیں ساری۔چودہ سو سال سے یہ ہوتا چلا آیا ہے یعنی انتہائی ایذا رسانی کی کوشش ہجرت اور مجاہدہ جس میں کیا جائے وہ حالات پیدا کئے جاتے رہے اور صبر کا مطالبہ اور کامل تو گل کا اظہار اور انعاموں کی بارش۔چودہ سوسال کی تاریخ ہماری شفقت