خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 325 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 325

خطبات ناصر جلد نهم ۳۲۵ خطبه جمعه ۱۳ / نومبر ۱۹۸۱ء مضمون کی اور حصے تھے وہ میں نے چھوڑ دیئے ہیں۔) أَفَا مِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لا يَشْعُرُونَ انہوں نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا ہے۔خدا کہتا ہے یہ میرے پر تو گل کر کے میری ہر بات مان رہے ہیں۔میرے لئے اپنی ہر چیز قربان کر رہے ہیں پھر کیا جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف تدبیریں کرتے چلے آرہے ہیں، انہیں امن کی گارنٹی کس نے دی ہے کہ اللہ انہیں اس ملک میں ہی ذلیل نہیں کرے گا اور رسوا نہیں کرے گا اور جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا وہ عذاب ان پر نہیں آئے گا۔سب کچھ ہو گیا۔جس دن آپ نے یہ کہا کہ تمہارے جن گھروں کے مکینوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہمارے گھروں سے نکالا تھا ، ان مکانوں کو میں کہتا ہوں جو تمہارے اندر چلے جائیں گے وہ امن میں آجائیں گے۔میں نے بتایا نا وہ دن بڑی عظمتوں کے بڑی رفعتوں کے اظہار کا دن تھا۔ہم سب کو عقل دی ہے۔سوچنا چاہیے یہ اعلان کس قدر عظیم ہے۔آپ نے کہا جس گھر کے مکین نے مجھے مکہ سے نکالا تھا اس گھر کو میں یہ عظمت دیتا ہوں کہ اس گھر میں تم چلے جاؤ گے تو وہ گھر تمہیں پناہ دے گا یہ اعلان تھا کہ خانہ کعبہ کے گرد جو گھر بنائے گئے تھے وہ امن کے لئے بنائے گئے تھے۔وہ لوگوں کے گھروں کو اجاڑنے کے لئے تو نہیں بنائے گئے تھے اور اس لئے یہ اعلان کر دیا اور وہ عذاب ان پر آ گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَوْ يَأْخُذَهُم فِي تَقَلُّبِهِمُ کہ وہ دوڑے پھرتے ہیں۔یہ جو جنگ احزاب ہوئی ، یہ سفروں کے نتیجے میں ہوئی۔رؤسائے مکہ دوڑے پھرتے تھے عرب قبائل کو اکٹھا کرنے کے لئے اور یہودی دوڑے پھرتے تھے رؤسائے مکہ کو اکٹھا کرنے کے لئے تا کہ مٹا دیا جائے اسلام کو۔اعلان کیا اللہ تعالیٰ نے کہ یہ تو درست ہے کہ تم بڑے انہماک کے ساتھ ، بڑے پیسے خرچ کر کے، اپنا آرام کھو کے سعی میں ، کوشش میں اور دوڑ میں لگے ہوئے ہو کہ کسی طرح اسلام کو مٹایا جائے۔تمہیں کس نے یہ امان دی ہے کہ ان سفروں میں تمہیں تباہ نہ کر دیا جائے گا۔میں نے بتایا نا