خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 274 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 274

خطبات ناصر جلد نهم ۲۷۴ خطبه جمعه ۲ /اکتوبر ۱۹۸۱ء میں نے اس پر توکل کیا اور اس وجہ سے کیا کہ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (التوبة: ۱۲۹) اس نے ذمہ لیا ہے اس عالمین ، اس Universe (یونیورس) اس کائنات کی ہر چیز کی ربوبیت کا۔ہر چیز جس کی ضرورت پڑ سکتی تھی انسان کو بحیثیت نوع یا انسانی افراد کو فرڈ افرڈ اسے طور پر حقیقی معنی میں ضرورت پڑ سکتی تھی وہ اس نے پیدا کر دی۔بعض دفعہ نہیں ملتی۔کوئی ظالم آجاتا ہے بیچ میں۔اس دکھ کو سوائے خدا کے کوئی دور نہیں کر سکتا۔بعض دفعہ انسان کو بلکہ ( بعض دفعہ غلط شاید میں نے کہا ) اکثر یا ہمیشہ ہی انسان کو پتہ نہیں کہ میری بھلائی کسی چیز میں ہے۔جو جانتا ہے اس سے مانگو۔تو لا اله الا هو خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔خدا کے سوا کوئی ربوبیت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔حسبي الله یہ رب جو ہے یہ میرے لئے کافی ہے اور اس پر میں تو گل کرتا ہوں۔سورۃ زمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے سینتیسویں آیت میں ہے۔اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟ یہ عام اعلان ہے ایک ، جس کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس معنی میں ہے کہ عملاً اس حقیقت کو ظاہر کرنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یہ سینتیسویں آیت کا ایک ٹکڑا ہے۔انتالیسویں آیت میں ہے۔تو کہہ دے مجھے اللہ کافی ہے ( یہ جو آیا تھا پہلے ) قُل حَسبى الله - ( اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔پہلی آیت ( آیت ۳۷۔ناقل ) میں تھا) پھر کہا اعلان کر دو حسبي الله میرے لئے اللہ کافی ہے کسی غیر کی مجھے ضرورت نہیں۔عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكَّلُونَ اس لئے جو میری اتباع کرنے والے ہیں انہیں میں یہ کہتا ہوں کہ تم صرف خدا پر توکل کرو۔ہمیں قرآن کریم میں یہ حکم ہوا۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران: ۳۲) اور اتباع کس چیز میں کرو؟ (صرف میں اصولی طور پر ایک بات بتارہا ہوں اس وقت ) فرمایا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ اعلان کروایا ) إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (يونس:۱۲) جو وحی مجھ پر نازل ہو رہی ہے میں صرف اس کی اتباع کرتا ہوں اور جس وقت ہمیں کہا گیا کہ آپ کی اتباع کرو تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم صرف اس وحی کی اتباع کر رہے ہیں جو آپ پر نازل ہورہی ہے۔اس لئے ہر سچے مومن کا فرض ہے کہ صرف اس وحی کی اتباع کرے جو آپ پر نازل ہو رہی ہے۔