خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 251 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 251

خطبات ناصر جلد نهم ۲۵۱ خطبہ جمعہ ار ستمبر ۱۹۸۱ء یہ میرے پچھلے خطبے کا جو آخری خلاصہ میں نے چھیں پڑھ کے سنا یا تھا، مختلف آیات اس سے پہلے بیان کیں۔آج ہے میرا مضمون تیسرا جو تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہم کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الرَّسُول ہیں، النَّبِی ہیں، الاقی ہیں۔یہ بنیادی عقیدہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارا۔الرَّسُول ہیں اس معنی میں کہ جو وحی آپ پر نازل ہوئی آپ نے کامل طور پر اس کی تبلیغ کی اور آگے پہنچایا۔الرسول ہیں، کامل رسول ہیں یعنی جو وحی نازل ہوئی اس کو آگے پہنچانے کے لئے دو رستے ہیں ممکن ، اصولی طور پر۔ایک اقوال سے۔قرآن کریم کی تفسیر کر کے، زبان سے نصیحت کرتے ہوئے ، لوگوں کو یاد دہانی کروا کے اس کو بھی کمال تک پہنچایا اور ایک فعل سے اس پر عمل کر کے بتایا۔تو جہاں تک قول اور فعل کا تعلق ہے الرسول ہیں۔کوئی ایسا رسول پہلے نہیں گزرا جس پر اس قدر عظیم ذمہ داری تھی اور اس نے اپنی عظمتوں کے نتیجہ میں جو خدا تعالیٰ نے اسے عطا کیں خدا تعالیٰ کے کلام کی عظمتوں کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب ہوئے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معنی میں الرسول مانتے ہیں۔۔ہم مانتے ہیں کہ آپ النَّی ہیں۔النَّبِی اس معنی میں ( نبی کہتے ہیں اس مطہر کو جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مطہر ہو اور خدا تعالیٰ بندوں کی اصلاح کے لئے اپنی وحی اس پر نازل کر رہا ہو۔) تو النَّبِی ہیں یعنی کامل وحی کے حامل نبی۔اور جو نباً جو اخبار ، جو وحی آپ پر اتری وہ اپنے کمال میں انتہاء تک پہنچی ہوئی ہے۔اس واسطے آپ نبی نہیں آپ النَّبِی ہیں۔اور بڑا پیارا یہ اعلان ہے کہ آپ آلامتی ہیں۔قرآن کریم نے کہا۔فَامِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ النَّبِي الأمّ الَّذِى يُؤْمِنُ بِاللهِ وَ كَلِمَتِهِ (الاعراف: ۱۵۹) تو امی کے معنی وہ ہیں جسے اپنے نفس میں خالی ، کچھ نہیں آتا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نفس اپنی ذات میں بالکل خالی ہے۔یہ اعلان ہوا ہے اس واسطے جو کہا وہ خدا کے کہنے پہ کہا۔جو معلّم حقیقی ہے اس کے بلائے پہ آپ بولے اور نہ خاموشی ہے چونکہ خدا تعالیٰ کے بلائے پہ بولے،اس واسطے