خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 250

خطبات ناصر جلد نهم خطبہ جمعہ ۱ارستمبر ۱۹۸۱ء ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم بصیرت دیتی ہے، بصائر رکھتی ہے۔ہر قسم کی بجھی سے محفوظ ہے اور نا کا می کی طرف لے جانے والی نہیں۔(۱۸) روحانی رفعتوں کی کوئی حد نہیں مقرر کرتی یہ، بلکہ یہ اعلان کرتا ہے قرآن کریم کہ جہاں تک روحانی رفعتوں کا تعلق ہے غیر محدود رفعتوں کے دروازے اللہ تعالیٰ نے کھولے ہیں قرآن کریم کی شریعت میں هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ٣) ہے۔(۱۹) طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتی۔صلاحیت اور فطرت کے مطابق مطالبے کرتی (۲۰) ئیسر کی تعلیم ہے تنگی اور عسر کی تعلیم نہیں۔(۲۱) تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔(۲۲) اسے دلائل سے پر کیا گیا ہے جو ہدایت کی راہیں روشن اور آسان کر دیتی ہے۔(۲۳) حق و باطل میں تمیز کی توفیق بخشتی ہے۔(۲۴) اس لئے نازل نہیں ہوا کہ انسان لتشقى (طه: ۳) انسان سعادت دارین سے محروم ہو جائے۔اس لئے نازل ہوا ہے کہ انسان کو دینی، دُنیوی سعادت دارین جو ہیں وہ میسر آجائیں۔ان کا حصول اس پر عمل کر کے ممکن ہو جائے۔(۲۵) کتاب مبین ہوتے ہوئے یہ کتاب مکنون بھی ہے یعنی قیامت تک کی ضرورتیں ، ان کے جو مسائل تھے ، ان کی جو ضرورتیں تھیں ، مسائل کا حل اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایسی تعلیم اس میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے کہ جو آج کے انسان کو ضرورت نہیں تھی اس پر وہ ظاہر نہیں کی گئی لیکن ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطہرین پیدا ہوتے ہیں جو زمانہ زمانہ اور جگہ جگہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے معلم حقیقی سے قرآن کریم کی تعلیم کو حاصل کرتے اور انسان کی ضروریات کو پورا کرنے والے ہیں۔(۲۶) یہ کہ یہ اہوائے نفس کی پیروی نہیں کرتی بلکہ انسان کی جو نفسانی خواہشات ہیں انہیں ٹھنڈا کرتی ہے اور اس وجہ سے یہ ذکر ہے۔