خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 234 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 234

خطبات ناصر جلد نهم ۲۳۴ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء ہے۔بڑی دلیری ہو گی کسی کا یہ سمجھنا کہ اس نے احسان کیا ہے اسلام پر۔کوئی احسان نہیں کرسکتا اسلام پر۔اسلام کا احسان ہے سب پر۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا قُلْ العَلِمُونَ اللهَ بدينكم (الحجرات: ۱۷) وقت زیادہ ہو گیا ہے اس کا میں ترجمہ پڑھ دوں گا۔آپ مطلب سمجھ جائیں گے میرا۔تو کہہ دے کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنے دین سے واقف کرتے ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ کو کوئی شخص جاکے یہ کہے کہ اے میرے رب! میں بڑا متقی ہوں، میں بڑا پرہیز گار ہوں۔Mental Hospital ( مینٹل ہاسپٹل ) میں تو کوئی شخص کہہ سکتا ہے اپنے ہوش وحواس میں نہیں کہ سکتا خصوصاً قرآن کریم کی روشنی میں۔تو کہہ دے کیا تم اللہ کو اپنے دین سے واقف کرتے ہو اور اللہ تو اس کو بھی جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر ایک چیز جانتا ہے اور پھر کہا يَمْشُونَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوا وہ اپنے اسلام لانے کا تجھ پر احسان جتاتے ہیں۔مومنین کی جماعت نہیں، یہ دوسری جماعت ہے یعنی اسلام تو لے آئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احسان جتاتے ہیں اپنے اسلام لانے کا حالانکہ جیسا کہ ہم نے ابھی دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار بنیادی احسان ہیں انسان پر اور پھر ان کی شاخیں ہیں۔تو احسانِ مجسم ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ان کے او پر کس نے احسان رکھنا ہے۔یا اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا اور جو کچھ ملا ہمیں وہ اسی سے ملا اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور وہ اپنے اسلام لانے کا احسان تجھ پر جتاتے ہیں۔تو کہہ اپنے اسلام لانے کا احسان مجھ پر نہ رکھو۔حقیقت یہ ہے کہ تم کو ایمان کی طرف ہدایت دینے کا تم پر احسان ہے۔اگر تم ایمان کے دعوئی میں بچے ہو تو اس حقیقت کو قبول کرو۔اللہ آسمانوں کا غیب بھی جانتا ہے اور زمین کا بھی اور اللہ تمہارے اعمال کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے اور اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔فیصلہ اس نے کرنا ہے کہ کون مومن ہیں حقیقی ، جن کو الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا قرآن کریم میں کہا گیا ہے اور کون وہ ہیں جو اسلام تو لائے لیکن ابھی ایمان کی روح ان کے اندر داخل نہیں ہوئی۔قرآن کریم میں ایک جگہ آیا ہے وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمُ (الحجرات: ۱۵) کہ ایمان تمہارے سینوں میں، دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا وہاں یہ فرمایا کہ تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں ولکن قُولُوا اسلمنا لیکن ہم تمہیں اجازت دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہ لو تو وہ شخص جس کا دل