خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 233 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 233

خطبات ناصر جلد نہم ۲۳۳ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء دیتا ہے۔یہ نہیں کہتا کہ آنکھیں بند کرو اور مجھے قبول کرو بلکہ کہتا ہے آنکھیں کھولی رکھو اور مجھے قبول کرو یہ نہیں کہتا کہ اندھیروں میں رہو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔کہتا ہے کہ اپنے سینوں کو اللہ اور محمد کے نور سے منور کر لو اور میری بات کو مانو۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فرمایا کہ حقیقت کتاب اور حقیقت رسالت کے جو دلائل ہیں ان سے معرفت پیدا ہوتی ہے یعنی انسان یہ پہچانتا ہے کہ یہ کتاب ہے کیا چیز اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کیا ہے۔ایک تو معرفت ذات وصفاتِ باری ہے وہ علیحدہ مضمون ہے۔یہاں بات ہو رہی ہے معرفت و عرفانِ حقیقت کتاب اللہ اور حقیقت رسالت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ نے فرمایا کہ یہ معرفت موہبت ہے۔معرفت سے پہلے کی حالت سکون کے مشابہ ہوتی ہے اور معرفت کا حصول حرکت کے مشابہ ہوتا ہے اور اس حرکت کا انحصار موہبت پر ہے۔بچہ سکون کی حالت میں ہوتا ہے۔بلوغت کا وہ لمحہ جو ان پہلوؤں سے سکون سے حرکت میں آتا ہے وہ حرکت اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوتی ہے یعنی بغیر عمل کے اور بغیر حق کے رحمانیت کی صفت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی حق نہیں ہے، کوئی عمل نہیں ہے، کوئی دعا نہیں ہے، کوئی اتباع نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور رحمت اور موہبت ہے ، اس سے یہ حرکت شروع ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ علت فیضان صرف موہبت سے ہے، يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ (فاطر:۹) یہ اس آیت کے معنی ہو گئے۔اس کی تفصیل سمجھانے کا اس وقت ، وقت نہیں ہے۔مگر پھر حرکت شروع ہو گئی نا۔پھر معرفت میں انسان ترقی کرتا ہے۔اعمالِ صالحہ اور حسنِ عمل یہ دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ایک ہے عملِ صالحہ اور ایک ہے عمل صالح کا حسین طریق پر کرنا، تو یہ معرفت اعمالِ صالحہ اور حسن عمل کے شعور سے زیادہ ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الہی کے رنگ میں نمود پکڑ کر تمام صحن سینہ کو اس نور سے منور کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے تو اسلام کے حصول کے لئے کیا چاہیے ہمیں؟ موہبت الہی۔اپنی کسی کوشش کا اس میں دخل نہیں۔معرفت شروع ہوتی ہے موہبت سے۔اس واسطے یا درکھیں کہ اسلام پر کسی انسان کا نہ احسان ہوسکتا ہے نہ ہوا بلکہ اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان اور شریعتِ اسلامیہ کا احسان ، اسلام کا احسان ہر مومن پر، ہر انسان کے اوپر