خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 193
خطبات ناصر جلد نهم ۱۹۳ خطبہ جمعہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۱ء بھی گزرے کہ رؤسائے مکہ نے رسد کے سارے راستے بند کر دیئے اور مسلمانوں کو بھوکا رکھنے کی کوشش کی۔بھوک کی مشقت اور تکلیف کو ان اڑھائی سال میں مسلمانوں نے برداشت کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ ان کو بھوکے مرنے نہیں دیا۔بہر حال جو جذ بات خدا تعالیٰ کی نعمتوں پر غور اور فکر کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے وجود اور آپ کے دماغ میں پیدا ہو سکتے ہیں ان کا تصور ہم نہیں کر سکتے ، اپنی استعداد کے مطابق کچھ سوچ لیتے ہیں۔اس حالت میں ایک قبیلے کا شیخ، رئیس وہاں سے گزرا اور وہ قبیلہ کئی میل دور تھا وہاں سے ، رستہ تھا یہ اس کا۔وہ کھڑا ہوا، اس نے دیکھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ دیں۔آپ نے کہا یہ سامنے دیکھ رہے ہو نا جانور، سارے کے سارے جانور ہانک کے لے جاؤ۔اس کو خیال آیا کہ میں سمجھا ہی نہیں یہ کیا کہہ رہے ہیں۔کہنے لگا یا رسول اللہ کیا بات؟ آپ نے کہا میں تمہیں کہہ رہا ہوں کہ جتنے جانور اس وادی میں ہیں سارے میں نے تمہیں دیئے ، تم لے جاؤ۔اس نے وہ جانور لئے ، ایک مسافت طے کی اپنے قبیلے کی جہاں ڈیرہ تھا اس کا وہاں پہنچا، ساروں کو اکٹھا کیا اور ان کو کہا اپنے قبیلے کو کہ دنیا میں کوئی شخص اس قسم کی سخاوت نہیں کر سکتا جب تک اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کی طاقت نہ ہو۔اس واسطے ہم سب کو اسلام قبول کرنا چاہیے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس سارے قبیلے کی نجات کا سامان پیدا کر دیا۔ویسے میں اس وقت بتا رہا ہوں کہ کس قسم کی سخاوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہوئی ہے لیکن صحابہ کہتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں تو جس طرح تیز ہوائیں چلتی ہیں یہ حال تھا آپ کی سخاوت کا۔تو یہ بھی ایک قربانی ، ایک عبادت خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہے ہمیں بھی کہا گیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اور اس کی مخلوق کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے خرچ کرو۔میں بتایہ رہا ہوں کہ ساری عبادات جو ہیں مالی بھی اور انفیسی بھی یعنی جن کا ہماری جان اور اوقات کے ساتھ تعلق ہے مشقتیں ہیں اٹھانی جذباتی بھی ( تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں ) وہ ساری یہاں اکٹھی ہوگئی ہیں۔بڑا عظیم مہینہ ہے۔اور اس میں ایک اور عظمت ہے اور وہ یہ عظمت ہے کہ اس مہینے میں قرآن کریم پڑھا جاتا