خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 192
خطبات ناصر جلد نهم ۱۹۲ خطبہ جمعہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۱ء پڑھنی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں اجتماعی طور پر باجماعت تراویح کا ، رات کے پہلے حصے میں نوافل پڑھنے کا رواج شروع ہوا۔قرآن کریم کی تلاوت ہے، کثرت سے کی جاتی ہے اور پہلے بھی ایک دفعہ میں نے یہیں اشارہ کیا تھا کہ بہت سے ہمارے بزرگ ایسے ہیں جو ساری کتابیں بند کر کے رکھ دیتے تھے اور جو وقت بھی انہیں پڑھنے کے لئے ملتا تھاوہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے لیکن قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کی غرض یہ ہے کہ کثرت سے ایسا موقع میسر آئے انسان کو کہ وہ اسے سمجھنے لگے۔اس لئے قرآن کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ اتنی جلدی اسے نہ پڑھو کہ تمہیں اسے سمجھ ہی نہ آئے ، نہ اسے اتنی جلدی پڑھ کے دوسروں کو سناؤ کہ الفاظ کا ہی ان کو پتہ نہ لگے۔قرآن کریم تعویذ نہیں ہے، بڑی پرحکمت کتاب ہے ، علوم سے بھری ہوئی اور ہدایت سے بھر پور۔غور سے آپ پڑھیں گے، آپ میں سے ہر ایک کو میں کہہ رہا ہوں، غور سے آپ پڑھیں گے، بہت سی آیات پر آپ رک جائیں گے ، سوچ میں پڑ جائیں گے، کوئی الجھن آپ کے سامنے آجائے گی پھر بہتوں کے لئے اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا کرے گا کہ اسی وقت وہ الجھن ان کی دور ہو جائے گی اور صحیح مفہوم ان کے دماغ میں آجائے گا اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے۔تو اوقات کا جہاں تک تعلق ہے اس کی قربانی دی جاتی ہے، جسم مشقت برداشت کرتا ہے اور جو اموال ہیں ان کے متعلق بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے۔آپ بڑے سخی تھے لیکن آپ کی سخاوت کی انتہا ماہ رمضان میں ہو جاتی تھی۔ماہ رمضان سے باہر بھی آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ جب مخالف اسلام نے اسلام کو ہلاک اور نابود کرنے کے لئے میان سے تلوار نکالی اور مسلمان کو مجبور کیا اپنے دفاع کے لئے جنگ کرنے پر تو اللہ تعالی نے فتوحات دینی شروع کیں اور مال غنیمت آنے شروع ہوئے۔ایک روز کا یہ واقعہ ہے کہ ایک وادی میں ہزاروں کی تعداد میں جانور بھیڑیں ، بکریاں، اونٹ مال غنیمت کے یعنی جو قومی اموال تھے وہ چر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک ٹیلے کے اوپر کھڑے ہوئے ان کو دیکھ رہے تھے اور خدا کی حمد میں مصروف تھے۔سوچ رہے ہوں گے، یہ میں نے سوچا کئی بار کہ مکہ میں اڑھائی سال ایسے