خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 167
خطبات ناصر جلد نهم ۱۶۷ خطبہ جمعہ ۲۶ / جون ۱۹۸۱ء یاد نہیں رہا امام بخاری تھے یا دوسرے ) ان کے متعلق آتا ہے کہ رمضان کا جب مہینہ شروع ہوتا تھا تو ساری کتابیں بند کر کے رکھ دیتے تھے اور صرف قرآن کو پکڑ لیتے تھے ، سارے رمضان میں سوائے قرآن کریم کے اور کچھ نہیں پڑھتے تھے آپ فرماتے ہیں۔”اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہیں سکتی“ آپ فرماتے ہیں ” غلبہ اسلام کے لئے یہ حربہ ہاتھ میں لو اس کام کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو اللہ تعالیٰ تمہیں تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے گا کیونکہ یہ فرقان بھی ہے نا۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّی جو لوگ اللہ ( سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ترجمہ ہے بعض لفظی تبدیلیوں کے ساتھ ) اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں یہ پوچھنا چاہیں اگر کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا عنایات رکھتا ہے جو محد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں سے ، جو ہم سے مخصوص ہوں اور غیروں میں نہ پائی جاتی ہوں۔( إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی کے یہ معنی آپ نے کئے ہیں ) تو ان کو کہہ دے میں نزدیک ہوں یعنی تم میں اور تمہارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ تم میرے مخصوص اور قریب ہو اور دوسرے مہجور اور دور ہیں۔جب کوئی دعا کرنے والوں میں سے جو تم میں سے دعا کرے، دعا کرتے ہیں تو میں اس کا جواب دیتا ہوں یعنی میں اس کا ہم کلام ہو جاتا ہوں اور اس سے باتیں کرتا ہوں اور اس کی دعا کو پایہ قبولیت میں جگہ دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کی زندگی میں اس فرقان کو قائم کرے جو اس کو دوسروں سے ممتاز کرنے والا ہو۔آمین۔( روزنامه الفضل ربوه ۵ / جولائی ۱۹۸۱ ء صفحه ۳ تا ۶ )