خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 166
خطبات ناصر جلد نهم ۱۶۶ خطبہ جمعہ ۲۶ / جون ۱۹۸۱ء میں نہیں ہے لیکن صوم کی وجہ سے اس کا ذکر ضروری ہے۔نماز جو ہے الصَّلوةُ الدُّعَاءُ نماز پڑھتے ہی ہم دعا کے لئے ہیں نماز میں دو قسم کی دعائیں ہیں، ایک وہ مسنون دعائیں ہیں یعنی قرآن کریم کی آیات اور وہ دعائیں ہیں جو مروی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اور ایک وہ دعائیں ہیں اور یہ یا درکھو اس میں بھی بدعت پیدا ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے یہ اجازت دی ہے بلکہ پسند کیا ہے کہ تم مسنون دعاؤں کے علاوہ اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو اور اس سے مانگو نماز کے اندر۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نماز جو ہے صلوٰۃ ، یہ تزکیہ نفس کرتی ہے اور تزکیہ نفس ( آپ فرماتے ہیں ) یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہوتا ہے یعنی اہوائے نفس جو ہیں نفسانی خواہشات جو ہیں ان سے انسان بچتا ہے۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ اور جو روزہ ہے یہ مجتبی متقلب کرتا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو کئے ) کہ کشف کا دروازہ کھلتا ہے اور دیدار الہی کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔تو کتنی عظمت ہے ماہِ رمضان میں کہ اگر نیک نیتی سے مقبول روزے رکھ لو گے تو دیدار الہی کے سامان پیدا کئے جائیں گے اور قرب کی راہیں جو ہیں وہ کشادہ کی جائیں گی تمہارے لئے۔بار ہو میں بات اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرآنُ اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت اس مہینے میں کی جائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی سنت تھی اور جیسا کہ میں نے بتایا حضرت جبرائیل علیہ السلام ماہ رمضان میں دور کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے صرف یہی کتاب پڑھنے کے قابل ہے اس واسطے میں کہتا ہوں جماعت کو کہ آپ کثرت سے قرآن کریم پڑھیں خصوصاً رمضان کے مہینے میں بہت زیادہ زور تلاوت قرآن کریم کے اوپر ڈالیں۔ایک محدث یا فقیہ تھے ( مجھے