خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 144

خطبات ناصر جلد نهم ۱۴۴ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء وَقَلْبُهُ مُطْمَن بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ فَمَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدرًا (النحل : ۱۰۷) سورۃ انعام کی آیت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کا فر کو جبراً کافر اور گمراہ کو جبراً گمراہ بناتا ہے بلکہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اپنی رحمت سے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ وہ کسی قسم کے گند میں، گندی زیست میں نہ پڑ جائے ، گندے اخلاق اور اخلاقی لحاظ سے بدصحبت میں نہ چلا جائے ، اس کی عادات خراب نہ ہو جائیں کہ اس کے لئے دینِ اسلام کی پابندیاں اٹھانا مشکل ہو جائے ، سینہ میں انقباض پیدا ہو جائے اور بشاشت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا نباہنا اس کے لئے قریباً ناممکن ہو جائے تو جبر نہیں، رحمت ہے اور اس کے لئے یہ اعلان کیا گیا کہ فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَةَ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلام اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اسلام کے لئے شرح صدر پیدا کرتا ہے۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةً اجُرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ۱۱۳) جو بھی انشراح صدر کے ساتھ اپنے اسلام کا اعلان کرے۔مَنْ أَسْلَم یہ اعلان کہ میں مسلمان ہوں اور اسلام کا پابند رہوں گا یہاں کسی جبر کا اعلان نہیں ہوا بلکہ ہر شخص نے اپنی مرضی سے اپنی رضا کے ساتھ یہ اعلان کرنا ہے کہ میں مسلمان ہوں، مسلمان ہوتا ہوں، اسلام کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے انشراح صدر کے ساتھ تیار ہوں۔پس خدا تعالیٰ نے انشراح صدر کے جو سامان پیدا کئے اس میں جبر نہیں تھا، حالات ایسے پیدا کئے گئے تھے کہ اگر کوئی شخص خود اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنے کے لئے اور اس کے قرب کی راہوں کو اختیار کرنے کے لئے تیار ہو تو اس کا اپنا نفس اور اس کا اپنا شیطان اس کی راہ میں روک نہ بن جائے۔یہاں فرمایا ہے جو بھی انشراح صدر کے ساتھ اپنے اسلام کا اعلان کرے اور اعمالِ صالحہ احسن طریق پر بجالائے ( وَهُوَ مُحْسِنُ ) تو اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بدلہ مقرر ہے اور ایسے مسلمانوں کو جو خود اپنی مرضی سے بشرح صدر اسلام کی ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا ( جیسا کہ میں آگے بتاؤں گا بہت سی بشارات قرآن کریم میں ہیں ) اور نہ وہ کسی سابق نقصان اور لغزش پر ވ