خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 141 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 141

خطبات ناصر جلد نہم ۱۴۱ خطبه جمعه ۱۲ / جون ۱۹۸۱ء ہر قسم کی تکالیف پہنچا ئیں گئیں۔قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ بت کو بھی گالی نہیں دینی۔انہوں نے بزرگوں کو اپنی زبان سے نہایت گندی ایذا پہنچائی۔اللہ تعالیٰ ان مصلحین کے ماننے والوں کو تیرہ سوسال میں قرآن کی آواز اس فضا میں گونجی وَاللهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ (النساء :۸۲) جو تدبیریں یہ کر رہے ہیں تمہارے خلاف فکر نہ کرو اللہ انہیں محفوظ کرتا جاتا ہے۔فَاعْرِضْ عَنْهُمْ (النساء :۸۲) اس لئے اسے تکلیف اٹھانے والے خدا کی راہ میں تو ان سے اعراض کر اور وَ تَوَكَّلْ عَلَى الله (النساء : ۸۲) اللہ پر بھروسہ رکھ وَ كَفَى بِاللهِ وَكِيلًا (النساء :۸۲) اور اللہ کے بعد کسی اور کارساز کی ضرورت نہیں ہوتی انسان کو جو حقیقی معنی میں اس پر ایمان لایا ہو۔اس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الله لا إله إلا هو - اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (التغابن: ۱۴) الله کے سوا کوئی معبود نہیں۔خالق الکل، مالک الکل، ہر چیز پر حاوی يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ (ال عمران:۴۱) وَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر جو چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے۔آزمائش کے دن بھی آئیں گے لیکن اللهُ لا إلهَ الا ھو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ اس لئے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ان کو اللہ پر ہی تو گل کرنا چاہیے اور کسی اور کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھنا چاہیے اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) پہلی آیت جو میں نے پڑھی اس میں تھا وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ مومنوں کو چاہیے صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔دوسری آیت کہتی ہے۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ۔جو شخص خدا تعالیٰ کا حکم مان کر صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ۔اللہ اس سے فرماتا ہے اعلان کر دو میں کافی ہوں تمہارے لئے تمہیں کسی اور کی ضرورت نہیں۔إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (الطلاق: ۴) اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے وہ اللہ اس کے لئے کافی ہے اور اللہ یقیناً اپنے مقصد کو پورا کر کے چھوڑتا ہے۔جہاں تک ہماری زندگیوں کا سوال ہے احمدیوں کی ، جس مقصد کے لئے مہدی علیہ السلام آئے جس مقصد کے لئے یہ جماعت جو ہے وہ قائم کی گئی جس مقصد کے لئے ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور رحم سے اپنی محبت پیدا کی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق پیدا کیا۔وہ مقصد یہ تھا کہ قرآن کریم کے نور