خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 785 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 785

خطبات ناصر جلد هشتم ۷۸۵ خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۰ء تو محاسبہ کرے گا اگر چاہے تو بغیر محاسبے کے معاف کر دے گا۔دعا کرو کہ بغیر محاسبے کے ہی معاف کر دے ہم سب کو اور پھر وہ ابدی جنیں۔ابدی جنتیں ایسی کہ وہاں بھی کوئی اکتا نا نہیں۔آدمی مرغا کھاتے کھاتے بھی۔ابھی کل ہی کسی نے مجھے کہا کہ مجھے ایک دفعہ بیماری میں اتنے مرنے ملے کہ مرغے سے ہی نفرت ہوگئی۔تو اس واسطے انسان کی طبیعت میں رکھا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر روز ایک نیا مقام جنت میں انہیں دیا جائے گا تو ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا پھر کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا وہ خیر ہے جو فر ما یاوہ ہمارے بھلے کی بات ہے اس سوچ میں پڑ جاؤ گے؟ کہ دنیا کیا کہے گی اس سوچ میں پڑ جاؤ گی ( عورتیں ) کہ اگر ہم شریعت کے مطابق پردہ کریں گی تو یہ جو بے پر دعورتیں آج کل پھر رہی ہیں ہمارے ملک میں بھی اور دنیا میں بھی ہمیں دیکھ کے سمجھیں گی کہ بڑی دقیا نوسی عورتیں کہاں سے آگئیں۔تم خدا کی نگاہ میں دقیا نوسی نہیں ہو۔جو خدا کا کہنا نہیں مانتیں وہ دقیانوسی ہیں۔وہ زمانہ جاہلیت کی باتیں کرتی ہیں۔تم تو ایک زندہ مذہب کی طرف منسوب ہونے والیاں اور زندہ تعلیم ، زندگی بخش تعلیم ، عرب توں کو بلند کرنے والی تعلیم ، خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو بڑھانے والی تعلیم پر ایمان لانے والیاں ہو۔تمہیں کیوں شبہات پڑ گئے ، تم کیوں شبہات میں مبتلا ہو گئیں۔جب شبہ کو ئی نہیں ہوگا جہاد ہو گا یعنی نفس کو درست کرنا، پالش کرنا تا کہ خدا اور زیادہ پیار کرے۔خدا کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے یہ نہیں ڈرنا کہ ہم بھوکے مرنے لگ جائیں گے۔اپنے اوقات دینا خدا کی راہ میں۔اب یہاں آگئے ہیں یہ بھی ایک جہاد ہے جو انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ اور جلسہ سالا نہ اور وقف زندگی اور باہر جاکے انسانوں کی خدمت کرنا یہ سارا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔اللہ فرماتا ہے أُولَبِكَ هُمُ الصّدِقُونَ یہ لوگ ہیں جو اپنے اس دعوئی میں سچے ہیں کہ وہ ایمان لائے اللہ اور رسول پر لیکن جو یہ کہتا ہے کہ میں اللہ اور رسول پر ایمان لایا لیکن شکوک و شبہات خدا پر اللہ کی وحدانیت پر بھی قائم ، اس کی تعلیم پر بھی قائم ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش اس کو نظر ہی نہیں آرہے اتنا اندھا ہے وہ ایمان کیسالا یا۔اس کو یہ نہیں پتا۔شہبے میں ہے کہ آیا یہ ہے نقش قدم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے یا نہیں حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نقشِ قدم وہ نقش قدم ہے جس پر چل کر انسان سیدھا خدا کی رضا