خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 784
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۸۴ خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۰ء عظمت کو تم سمجھتے نہیں حالانکہ تو حید باری بنیاد ہے اس ساری کائنات کی۔اسی واسطے تو جہ دلانے کے لئے لا إله إلا الله کا میں نے کہا تھا ورد کرو۔اس کے متعلق کچھ اور بھی کہوں گا۔بڑی عجیب بات ہے۔خدام الاحمدیہ کی پہلی تقریر میں انشاء اللہ بتاؤں گا۔تو اگر دل میں ایمان ہو تو اعمال صالحہ ہوں گے یعنی موقع اور محل کے مطابق، اسلامی تعلیم کی ہدایت اور روشنی میں انسان کا عمل ہوگا اور جو زبان سے سے نکلے گا وہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہوگا۔اعمال جو ہیں مثلاً اسلام کہتا ہے لڑنا نہیں۔اب اگر دل میں ایمان ہے ( میں تمہیں کہتا ہوں) سب لڑائیاں جھگڑے چھوڑ دو۔میں اپنی طرف سے تو کچھ نہیں کہتا، میں تو یہ کہتا ہوں، تم نے یہ کہا کہ ہمارے دل میں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ہے۔میں تمہیں کہتا ہوں کہ اگر تمہارے دل میں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ہے تو خدا اور خدا کا رسول کہتا ہے کہ آپس میں پیار اور محبت سے رہو اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسے معاف کرنا سیکھو، بدلہ لینا نہ سیکھو۔اگر ایمان ہے تو یہاں ایک دوسرا کرائٹرین (Criterion) بیان کیا تم لَم يَرْتَابُوا پھر شبہ کوئی نہیں رہتا۔حقیقی ایمان کے بعد پھر شبہ کیسا۔حقیقی ایمان کے بعد تو جس شخص کی شادی نہیں ہوتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کروا دی اور اگلے دن اس کا رخصتا نہ ہونا تھا اور ایک دن پہلے جہاد کا اعلان ہو گیا تو اس نے اپنی شادی کی تیاری چھوڑ دی، جہاد کے لئے تلوار خریدی، نیزہ خریدا، دوسرا سامان خریدا اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کی شادی ہو رہی تھی وہ فوج میں جا تو ملا لیکن چھپا پھرا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں آیا جب تک کہ دو ایک پڑاؤ دور نہ چلے گئے مدینہ سے، تب وہ سامنے آیا آپ نے کہا میں نے تو تمہاری شادی کا دن مقرر کیا ہوا تھا تم یہاں کیا کر رہے ہو۔کہنے لگا یا رسول اللہ میری شادی میرے اور میری جنت کے درمیان حائل نہیں ہوسکتی۔اور بڑی عظیم ہے وہ حدیث اور وہ بیان۔اس کی عظمت اور تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا اور وہ شہید ہو گیا وہاں۔لَمْ يَرْتَابُوا پھر کوئی شبہ نہیں ہے۔جس شخص کے دل میں ایمان ہے اس کو یہ شبہ نہیں کہ مرنے کے بعد مجھے زندگی نہیں ملے گی۔جس کو یہ شبہ نہیں ہے کہ مرنے کے بعد مجھے زندگی ملے گی یا نہیں ، بلکہ یقین ہے کہ مرنے کے بعد بھی مجھے ایک زندگی ملے گی۔مجھے خدا کے حضور پیش ہونا ہے۔اس نے اگر چاہے وہ