خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 764
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۶۴ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء جس طرح میں نے وہاں بھی کہا۔میں نے کہا میں علی وجہ البصیرت یہ اعلان کرتا ہوں پھر دورے میں بھی میں نے کہا کہ خدا مجھے اپنی زبان سے مسلمان کہتا ہے تو خدا کی آواز مجھے مسلمان کہے اور انسان کی آواز مجھے غیر مسلم کہے تو (کیا) میں انسان کی آواز کے پیچھے چل پڑوں گا۔دنیا کی کوئی طاقت ہمیں خدا کے پیار سے دور نہیں لے جاسکتی۔دنیا کی کوئی طاقت ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے پرے نہیں ہٹا سکتی۔جو دامن محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کا ہم نے پکڑا ہے وہ اس مضبوطی سے پکڑا ہے کہ کوئی طاقت اسے چھڑوا نہیں سکتی اور جونور خدا تعالیٰ نے ہماری زندگیوں میں اسلام کا اور اپنی صفات کا پیدا کیا ہے اس نور میں زندہ رہنا ، اس نور میں مرجانا ہزارزندگیوں سے اچھا سمجھتے ہیں ہم۔خالد بن ولید نے ایک موقع پر کہا تھا اسلام کے دشمنوں سے کہ تم ہمارے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ جتنا پیار تمہیں اس دنیا کی زندگی سے ہے اس سے زیادہ پیار ہمیں اُخروی زندگی کے ساتھ ہے۔جس کا مطلب ہے موت سے ہم پیار کرتے ہیں تو جو قو میں خدا تعالیٰ پر ایمان لا کے اس کے وعدوں پر ایمان لاتی اور اُخروی زندگی پر ایمان لاتی ہیں ان کو یہ دنیا چھوڑنی دو بھر نہیں ہے۔جو کامل یقین رکھتی ہیں کہ مرنے کے بعد کی زندگی ہے اور اپنے بندوں پر خدا بڑا فضل کرے گا مرنے کے بعد، ان کو کیا فرق پڑتا ہے یہ دنیا چھوڑ کے وہاں جانے کا۔سوائے اس فرق کے کہ وہ بُری جگہ چھوڑ کے ایک اچھی جگہ چلے گئے ، ایک دکھ کی جگہ چھوڑ کے وہ خوشیوں کی جگہ میں چلے گئے۔ایک بدصورت جگہ کو چھوڑ کے ایک حسین جگہ چلے گئے۔ایک بھوک اور ننگ اور پیاس کی جگہ کو چھوڑ کے ایک سیرابی کی جگہ پہ وہ چلے گئے۔تو عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبا ہیں اور عاجزی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اس کی صفات کے ترانے گائیں اور اس کے بندوں کی خدمت میں لگے رہیں خواہ وہ بندے اپنے جوتے کی ٹھو کر آپ کو لگانے والے ہوں پھر بھی آپ خدمت سے باز نہ آئیں۔اس کے بغیر آپ ان کے دل نہیں جیت سکتے اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ ان کے دل ضرور جیت کے رہیں گے، اپنے لئے نہیں خدا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )