خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 759
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۵۹ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء ہے لَا غَالِبَ إِلَّا اللہ کئی چلتے ہیں نیچے کوئی چھوٹے ، پھر آگئے ہیں بیضوی شکل کے، کچھ دائرے کے اندر لا غَالِبَ إِلَّا الله۔پھر اور بھی ہیں الْقُدْرَةُ لِلَّهِ - اَلْعِزَّةُ لِلَّهِ۔اس طرح اس قسم کے فقرے بھی ہیں۔بڑا پیار تھا اس کو خدا اور اس کی صفات کے ساتھ۔وہاں اب انہوں نے ایک اسی محل کے ایک حصے کو ٹھیک کر کے تو اس میں ہوٹل بنادیا ہے۔۷۰ ء میں وہ اس کو بنے دوا یک سال ہوئے تھے۔دعا بھی ، یا درکھیں دعا بھی خدا تعالیٰ کرواتا ہے۔ایک رات شاید ہم رہے یا دورا تیں رہے۔ایک رات اتنی شدید کرب پیدا کی خدا نے کہ میں نے ساری رات دعا کی خدا کے حضور اور یہ دعا کی کہ اے خدا سات سو سال مسلمان نے عدل اور انصاف کے ساتھ یہاں حکومت کی۔کسی کا حق نہیں مارا سب کے حقوق دیئے۔وہاں سے سامنے اس محل سے نظر آتے ہیں وہ کوارٹر ، عیسائیوں کا کوارٹر علیحدہ کہ گرجے بناؤ اپنی عبادتیں کرو۔یہودیوں کا علیحدہ جیسیز (Gipsies) جن کی آج بھی کوئی دنیا میں عزت نہیں کرتا ان کی عزت کی ، ان کو احترام بخشا مسلمان نے اور ان کی ثقافت اور رہن سہن کا جو طریق تھا اس میں دخل نہیں دیا یعنی زبر دستی ان کو ان کی غاروں سے اٹھا کے مکان میں آباد نہیں کیا جس طرح یہاں جھگیوں سے اٹھا کے مکان دے دیتے ہیں۔وہ جھگیاں اسی طرح قائم ہیں وہ تو یہاں کا مسئلہ ہے کراچی کا۔وہ آپ جانیں اور وہ مسئلہ جانے۔بہر حال وہاں سے نظر آتے ہیں۔اب بھی وہ وہاں رہتے ہیں لیکن اُس وقت عزبات سے رہتے تھے اب وہ بے عزتی سے رہ رہے ہیں۔بہر حال ساری رات میں نے دعا کی خدا یا رحم کر ان پر اور پھر اسلام یہاں آئے۔تو بہت میں بے چین ہو کے ، تڑپ کے میں دعا کر رہا تھا تو مجھے آواز آئی وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ جوشخص خدا پر توکل کرے اُسے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ اس کے لئے کافی ہے۔اِنَّ اللهَ غَالِبُ عَلَى اَمرِہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔قَدْ جَعَلَ اللهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا لیکن ہر کام کا ایک وقت مقدر ہے اس وقت ہوگا اور مجھے سمجھ آگئی کہ ابھی وقت نہیں آیا ، آئے گا وقت۔یہ ۷۰ ء کی بات ہے اور ۷۰ ء میں ہم نے کہ طلیطلہ میں ایک چھوٹی سی مسلمان کی بنائی ہوئی ٹوٹی پھوٹی نیگلیکنڈ (Neglected) مسجد تھی ہم نے کہا کہ ہمیں ہیں سال تک اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دو۔ہمارے مبلغ نے مجھے کہا آپ سو سال