خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 687 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 687

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۸۷ خطبه جمعه ۱۳ / جون ۱۹۸۰ء کی رفعتوں تک پہنچایا تھا وہ پھر واپس اندھیروں کی طرف جانے کے لئے آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ اس گند میں نہ پڑیں۔ان اندھیروں کی طرف ان کی حرکت نہ ہو۔کبھی میں کامیاب ہوتا ہوں کبھی بدقسمتی ان لوگوں کی میں کامیاب نہیں ہوتا لیکن بہر حال یہ کوشش ہے جو میں کرتا ہوں اور اب میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ ہر شخص اس بات کا ذمہ دار ہے کہ ربوہ کی فضا جو ہے وہ محبت اور پیار کی فضا ر ہے گی اور ہر شخص دوسرے کے دکھوں کو دور کرنے والا ان کے لئے خوش حالی اور بشاشت کے سامان پیدا کرنے والا ہوگا۔دکھ کے سامان پیدا کرنے والا نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس حقیقت کے سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کرے۔اپنی طبیعت کے لحاظ سے میرا خیال تھا۔دس منٹ سے زیادہ میں نہیں بولوں گا اور آپ کے نقطہ نگاہ سے اس گرمی کے باوجود کچھ زیادہ بول گیا ہوں۔بہر حال انسان اپنی کوشش کرتا ہے اور خیر اور برکت صرف خدا دینے والا ہے۔اس واسطے ایک بات چھوٹی سی بتا دوں۔ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا مجھے بڑی پیاری ہے۔رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص:۲۵) انہوں نے یہ نہیں مانگا کہ اے خدا! مجھے یہ دے اور وہ دے۔انہوں نے کہا ہر وہ چیز جس میں میرے لئے تجھے خیر نظر آئے اے خدا! مجھے وہ دے۔اور اسی کا میں محتاج ہوں۔مجھے آپ نہیں پتہ میرے لئے بھلائی کس چیز میں ہے۔میں کیا مانگوں تجھ سے۔اس سے مانگو جو جانتا ہے اور اپنی چلانے کی کوشش نہ کرو اس کے ماحول میں۔آپ میں سے کسی کو بھی کچھ پتہ نہیں ایک منٹ بعد کا نہیں پتہ۔اللہ تعالیٰ فضل کرے۔ہمیں سچا احمدی مسلمان ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے اور ہمیں اس قابل بنا دے کہ دنیا ہمارے نمونے کو دیکھ کر ہماری زندگیوں پر نگاہ پا کر اسلام کی طرف مائل ہونے والی بن جائے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو اسی طرح حاصل کرنے کی کوشش کرے جس طرح ہم خدا کے عاجز بندے اس کی رحمتوں اور فضلوں کے محتاج اور