خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 686
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۸۶ خطبه جمعه ۱۳ / جون ۱۹۸۰ء کرتا ہے۔اس سال ” نصرت جہاں آگے بڑھو نصرت جہاں میرے لئے ایک پیارا وجو د بھی ہے کیونکہ میری دادی نصرت جہاں نے بچپن سے ہی مجھے پالا اور بڑی احسن رنگ میں تربیت کی۔مجھے وہ کچھ سکھایا کہ دنیا کی کوئی ماں نہیں جس نے اپنے بچے کو وہ سکھایا ہو، جس رنگ میں سکھا یا وہ بھی حسین تھا۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بہت بلند کرے) لیکن معنوی لحاظ سے یہ بنتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے اور آگے بڑھو۔۵۳ لاکھ سے تو ہم بجوں کی چال سے بھی آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن خدا تعالیٰ کی نصرت نے اپنا یہ کرشمہ دکھایا کہ سالِ رواں کا ان ملکوں کا نصرت جہاں کا بجٹ چار کروڑ روپے کا ہے۔تو خدا تعالیٰ جو ہے وہ بخیل نہیں۔جو اس کی خاطر اپنا حق چھوڑتا ہے۔اسی کا دیا ہوا مال اسے لوٹاتا ہے وہ اللہ اس دنیا میں بھی قرضہ نہیں رکھتا اور اسے دیتا ہے۔اگر تو آپ نے اپنے ربّ سے لینا ہے تو لڑ جھگڑ کے اپنے بھائی سے مت لو۔اگر آپ نے اس کے حکم پر عمل کرنا ہے۔لا تأكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمُ بِالْبَاطِلِ (البقرة : ۱۸۹) تو جو آپ کا حق نہیں وہ اپنے حق میں ملا کر سارے مال کو گندا نہ کرو بلکہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔وہ آپ کی ضرورتوں کو پورا کرے گا اور آپ کی فطرت میں اور نفس میں قناعت کا مادہ پیدا کرے گا اور سخی بنائے گا آپ کو۔دوسروں کو دینے والا بنادے گا آپ کو۔ایسا بنادے گا جس طرح ایک چشمہ کے کنارے پر جو خیمہ زن ہے انسان۔وہ پانی جمع نہیں کیا کرتا مٹکوں میں ہر وقت اس کو ٹھنڈا پانی بارشوں کا اور برف کا چشموں کے ذریعہ اُسے وہ پہنچ رہا ہے۔اس مادی دنیا کا وہ کون سا چشمہ ہے جس کا دہانہ خدائے رزاق کے جو جلوے ہیں ان سے زیادہ چوڑا ہو۔تو جہاں سے آپ کو بہت زیادہ مل سکتا ہے وہاں سے لینے کی کوشش کریں اور ہمیشہ ہی پیار اور محبت سے رہیں۔ربوہ کو تو مثال بننا چاہیے دوسروں کے لئے۔اس واسطے میں آپ کو زور کے ساتھ یہ یاد دہانی کروا رہا ہوں۔میں جب یہاں ہوتا ہوں کئی تکلیفیں بھی اٹھاتا ہوں جذباتی طور پر۔ذرا ذراسی بات کی مجھے اطلاع آتی ہے کہ جو احمدی جن کو خدا تعالیٰ نے گند اور اندھیروں سے نکال کر پاکیزگی اور نور