خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 680
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۸۰ خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۸۰ء پھر بتایا کہ اعمالِ صالحہ بجالانے کی کوششوں میں تمہاری ایک بنیادی کوشش اور بھی ہوئی چاہیے۔اس بنیادی کوشش کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اس آیت میں صالح کی تعریف کے طور پر ایک لفظ زائد استعمال کیا گیا ہے۔فرمایا فَإِنَّهُ كَانَ لِلأَوَّابِينَ غَفُورًا پہلے تو یہ کہا کہ اِن تكونوا صلِحِينَ یعنی یہ کہ اگر تم صالح ہو آیت کے اگلے حصہ میں صالح کے لفظ کو چھوڑ کر آواب کا لفظ لیا گیا ہے تا کہ یہ بتایا جائے کہ صالح کے معنی میں خدا تعالیٰ کی طرف بار باررجوع کرنے کی اہمیت کو بھی ذہن میں حاضر رکھنا ضروری ہے کیونکہ انسان جب کوئی عمل کرتا ہے، تو ضروری نہیں کہ وہ عمل مقبول بھی ہو۔ہزار گند ہیں جو ہمارے اعمال میں شامل ہو جاتے ہیں ہمیں ان کا علم بھی نہیں ہوتا لیکن رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ ہمارے خدا تعالیٰ کو تو علم ہوتا ہے۔اسی لئے توجہ دلائی کہ بار بار اس کی طرف رجوع کرو تا کہ تمہارے خیال میں جو اعمالِ صالحہ ہیں وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بھی مقبول ہو جائیں یعنی اس کی نگاہ میں بھی وہ اعمال صالحہ قرار پائیں اور اس کے نتیجہ میں تمہیں رب کریم کی ربوبیت حاصل ہو اور ہر میدان میں تم اس کی رحمت کے سایہ تلے کامیابیوں کو اور اس کی رضا کو حاصل کرنے والے ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔ہمیں آواب بنائے۔ہم میں وہ ہر وقت اپنی طرف رجوع کرنے کا احساس بھی پیدا کرے اور ہمیں اس کی توفیق بھی دے اور اس کے نتیجہ میں ہمارے اعمال خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر پورے طور پر منور شکل میں اس کے حضور پیش ہونے والے ہوں اور انہیں وہ اپنے فضل سے قبول فرمائے۔اللہ جو ہمارا رب ہے اور ہماری ربوبیت کے لئے اور ہماری ترقیات کے لئے ، ہماری فلاح کے لئے ، ہماری خوش حالیوں کے لئے اس نے جوسامان پیدا کیا ہے اس میں وہ خود ہماری انگلی پکڑ کے اپنے پیار کی راہوں پر ہمیں چلانے والا ہو اور اس کے فضلوں اور رحمتوں کو ہم حاصل کرنے والے ہوں۔روز نامه الفضل ربوه ۳/ جولائی ۱۹۸۰ ء صفحه ۲، ۳)