خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 679 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 679

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۷۹ خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۸۰ء کو، وہ رب ہے۔اس نے تمہیں اس لئے پیدا کیا کہ اس کی ربوبیت کی صفت تمہاری زندگیوں میں جاری وساری ہے۔اس کے لئے اس نے شریعت کو نازل کیا۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔ہمارے لئے اس نے آپ پر کامل شریعت نازل کی ایسی شریعت کہ جو ہماری زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی اور ہر شعبہ کے اندھیروں کو دور کر کے نور پیدا کرنے والی ، ہر شعبہ زندگی میں ترقیات کے سامان پیدا کرنے والی اور ان تمام راہوں کو جن پر چل کر بندہ خدا کی رضا کی جنتوں کو حاصل کر سکتا ہے کھول کر بیان کرنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہارا رب ہوں اگر چاہو تو میری اس صفت سے فائدہ اٹھاؤ اور وہ اس طرح کہ ربوبیت کی خاطر میں نے جو ایک کامل شریعت کو نازل کیا ہے اس پر عمل پیرا ہو۔پھر اس پر عمل پیرا ہونے کے عظیم الشان شمر کی طرف توجہ دلانے کے لئے فرما یا ان تكونوا طلحين اگر تم صالح ہو گے ، اعمالِ صالحہ بجالا ؤ گے۔اعمالِ صالحہ کے معنی ہیں شریعت کے ہر حکم پر موقع اور وقت کی مناسبت کے مطابق پوری شرائط کے ساتھ عمل کرنا۔جو عمل ایسا ہے وہ اعمال صالحہ کے زمرہ میں داخل ہے۔اسلام اور قرآن کریم کی اصطلاح میں صالح وہ ہے کہ جس پر وقتاً فوقتاً خدا تعالیٰ کے جو احکام لاگو ہوتے ہیں ان سارے احکام کو وہ موقع اور وقت کی مناسبت سے بجالائے۔وقت کی مناسبت کے بارہ میں کوئی شبہ نہ رہنا چاہیے۔مثال کے طور پر ایک وقت نماز کا ہے۔اس وقت باجماعت نماز پڑھنے کا حکم لا گو ہو گیا۔زکوۃ کا حکم ہے وہ سال میں ایک دفعہ لاگو ہو گیا۔روزے رکھنے کا حکم ہے وہ سال کے ایک مہینے میں لاگو ہو گیا۔بشاشت اور مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ بھائیوں سے ملاقات کرنا اور ان کے ساتھ قول حسن سے بات کرنا۔یہ ایسا حکم ہے کہ ہر وقت ہی لاگو ہے۔جب دو آدمی ایک دوسرے سے ملیں اور ملاقات کریں جس وقت آدمی اکیلا ہو اس وقت یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔لیکن جس وقت بھی اس کا ملاپ کسی دوسرے انسان سے ہوتا ہے یہ حکم لاگو ہو جاتا ہے کہ دکھ نہیں دینا کسی کوسکھ پہنچانا ہے ہمیشہ۔بتامیں یہ رہا ہوں کہ ہرحکم ہر وقت انسان پر لاگو نہیں ہوتا۔اسی لئے اعمال صالحہ کا یعنی با موقع اور مناسب حال کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔۔