خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 645 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 645

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۴۵ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء اس امتحان میں آٹھویں میں اوپر کی تین سو پوزیشنز میں آئے گا وہ مجھے لکھے کہ مثلاً ایک سو پچاسویں میری پوزیشن ہے تو اس کو خط کے علاوہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو تفاسیر چھپ رہی ہیں ( پانچ جلدیں چھپ چکی ہیں آپ بھی ان کو خریدیں اور جو ذمہ دار ہیں وہ شائع بھی کریں ) میں اپنے دستخط کر کے اور دعا کے ساتھ وہ ان کو تحفہ بھیجوں گا۔اس سے اوپر کے امتحانوں کے بارہ میں بھی میں نے اعلان کر دیا ہے۔وہ خطبہ جب الفضل میں چھپ جائے سارے پاکستان ساری دنیا کے جو احمدی طلبہ اور طالبات ہیں وہ بھی لکھیں۔اس سکیم میں یہ جو ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی کتاب بھیجوں گا۔باہر والوں کو انگریزی کا ترجمہ قرآن یا تفسیری نوٹ والا قرآن انشاء اللہ جائے گا۔بات یہ ہے اور اسے اچھی طرح سن لیں کہ آج کی دنیا نے دولت بڑی کمائی لیکن آج کی دنیا ایسے موڑ پر آگئی ہے کہ دولت ان کے کام نہیں آ رہی۔علم ان کے کام آرہا ہے۔آج اگر اخباروں میں آپ دیکھتے ہیں۔کوئی جھگڑا ہوا مریکہ اور روس کا تو یہ آپ نے کہیں نہیں پڑھا ہوگا کہ امریکہ کے پاس اتنی دولت اور روس کے پاس اتنی دولت ہے۔یہ آپ ضرور دیکھتے ہوں گے کہ امریکہ کے پاس اتنے ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم یا کئی اور چیزیں ہیں یا اتنی سب میرین (Submarine) ہیں یا اتنے ہوائی جہاز ہیں یا یہ اور وہ۔جس کی بنیاد علم کے اوپر ہے۔ویسے تو نہیں بن جاتے یہ۔جس نے ایٹم کا باریک ذرہ توڑا اپنے دماغ میں فارمولا بنایا ، اس کے اندر چھپی ہوئی عظیم طاقت جو خدا تعالیٰ کے علم میں تھی ( اور خدا تعالیٰ ہی اس ذرے میں وہ طاقت پیدا کر سکتا ہے انسان پیدا ہی نہیں کر سکتا ) اسے معلوم کیا اس نے اسے پیسے کے زور سے تو نہیں معلوم کیا۔علم کے زور سے معلوم کیا۔یہ ٹھیک ہے کہ علم کی غلام ہے دولت، دولت کا غلام نہیں ہے علم۔یعنی علم کو علمی میدانوں میں آگے بڑھنے کے لئے دولت کی ضرورت ہے۔بڑے سوفسٹی کینڈ (Sophisticated) اپریٹس وہ تیار کرتے ہیں بڑا خرچ آتا ہے ان پر لیکن یہ کہ علم دولت کا غلام بن جائے یہ نہیں ہے۔دولت جتنی بھی ہو ، اس کی فراوانی ہو، علم کی ہمیشہ غلام رہتی ہے۔اس