خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 626
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۲۶ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء کرتا ہے اور ایک آیت کی تفسیر ذہن میں آتی ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی اس مسئلہ کو حل کرنے والی ہے اور یہ دماغ میں حاضر ہی نہیں ہوتا کہ یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب میں لکھ چکے ہیں اور پھر چند دنوں کے بعد کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب میں وہ چیز موجود ہے۔تو اس زمانہ میں قرآن کریم کو سمجھنے اور جاننے کے لئے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی زندگی کی ظلمات کو اور زندگی کے اندھیروں کو قرآن کریم کے نور سے نور میں بدلنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا پڑھنا ضروری ہے۔ساری ہی کتب اور آپ کی سب تحریریں قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم سے باہر ، قرآن کریم سے زائد ایک لفظ بھی نہیں لکھا نہ قرآن کریم پر کچھ زیادتی کی ، نہ قرآن کریم سے کوئی کمی کی تفسیر بیان کرتے چلے گئے ہیں۔بعض ایسے بیان ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نہیں لکھا کہ میں کس آیت کی تفسیر کر رہا ہوں اور ایک بیان دے دیا ہے کسی مسئلے کے متعلق کسی وقت غور کرتے ہوئے وہ عبارت پڑھتے ہوئے ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو نہیں لکھی لیکن ) دماغ میں ایک آیت آجاتی ہے کہ آپ فلاں آیت کی تفسیر کر رہے ہیں اس لئے کہ جس شخص کے متعلق جماعت کے ہر فرد کا یہ عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اس نے قرآن کریم سے باہر کچھ نہیں لکھا۔اس کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ فلاں آیت کی تفسیر ہے وہ یہ جانتا ہے کہ کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہے۔اپنے پاس سے قرآن کریم پر نہ زائد کر رہے ہیں اور نہ اس میں سے نکال کے باہر پھینک رہے ہیں۔اس لئے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اور آپ لوگوں کی توجہ اس طرف اتنی نہ ہونے کی وجہ سے جو ہونی چاہیے آپ کی مدد کرنے کے لئے میرے دماغ میں ایک سکیم آئی ہے۔ہاں میں یہ بتا دوں کہ قرآن کریم کا ہی ذکر ہے اس آیت میں جس میں ہے۔وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) یہ دعا ہمیں سکھائی گئی ہے قرآن کریم نے کہ اے ہمارے رب! ہمیں علم میں بڑھاتا چلا جا۔اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ قرآن عظیم غیر محدود علوم کا خزانہ ہے کیونکہ اگر وہ