خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 567 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 567

خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء خطبات ناصر جلد ہشتم طرف سے تبدیل کیسے کردوں۔میں خود اتباع کرتا ہوں صرف اس وحی کی جو میری طرف خدا کی طرف سے آتی ہے۔اور پھر یہاں پھر اسی آیت کو دہرایا گیا ہے۔یہ تین جگہ دہرایا گیا ہے دو جگہ کا تو میں نے ذکر کیا ہے۔إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى اِلی میں تو وحی باری ، وحی خدا کا کامل متبع ہوں۔تم میری پیروی کرو۔فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کا کامل متبع ، کامل اتباع کرنے والا ہوں۔اِتَّبِعُونی میرے پیچھے آؤ۔تم بھی کامل اتباع کرو۔اپنی طرف سے کوئی چیز بیچ میں نہ گھسیڑو۔خدا تعالیٰ تم سے پیار کرنے لگ جائے گا جس طرح وہ مجھ سے پیار کرتا ہے، مجھ سے وہ پیار کر رہا ہے۔اس حالت کو بدل کے میں اپنی حالت کو کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔انّي أَخَافُ خوف میرے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر میں نے نافرمانی کی اِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ تو پھر دنیا کی کوئی طاقت عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ سے مجھے محفوظ نہیں کر سکتی۔یہ جو کہا تھا کہ اِنتِ بِقُرانِ غَيْرِ هذا اس کا جواب سورۃ یونس کی اگلی آیت سترھویں آیت میں دیا ہے۔پہلی سولہویں آیت تھی اور فرما یا قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلُوتُهُ عَلَيْكُمْ ان کو کہ دو اگر خدا اس قرآن کی بجائے کوئی قرآن، یہ تو یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر مضبوطی سے قائم ہیں کہ خدا نے بھیجا ہے، تو کہا کہہ دو کہ اگر خدا نے یہ بھیجا ہے،اگر خدا یہ چاہتا کہ اس کی بجائے کوئی اور قرآن کوئی اور تعلیم ہمارے پاس آتی تو وہ قرآن کوئی اور تعلیم بھیجتا یہ قرآن نہ بھیجتا۔قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلُوتُهُ عَلَيْكُمْ ـ اگر خدا چاہتا تو اس قرآن کریم کی آیات بینات میں پڑھ کے تمہیں نہ سنا تا۔یہ تعلیم تمہارے سامنے پیش نہ کرتا۔پھر وہ تعلیم پیش کرتا جو خدا چاہتا کہ میں تمہارے سامنے پیش کروں۔ولا ادرسکھ ہے۔یہاں دو باتیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ خدا پھر میرے پر یہ قرآن نازل نہ کرتا۔اگر خدا یہ چاہتا کہ جو تم مطالبہ کرتے ہو، وہ پورا ہو کہ یہ قرآن نہ ہو کوئی اور ہوا گر خدا کی بھی یہی مرضی ہوتی تو خدا میرے پر یہ قرآن نازل نہ کرتا اور خدا مجھے یہ نہ کہتا کہ آج میں نے تمہاری تعلیم کو مکمل کر دیا ہے قیامت تک کے لئے۔پھر میرے پر کوئی اور قرآن نازل ہوتا۔پھر جب خدا کی وحی اور الفاظ میں نازل ہوتی میں وہ تمہارے سامنے پیش کر دیتا لیکن