خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 565 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 565

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۶۵ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء زیادہ پاک اور مطہر اور خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب رسول ہیں۔کوئی انسان ایسا نہیں جو آپ کی گرد کو بھی پہنچ سکے اور دوسرے یہ بات کہ اس کے باوجو د سورۃ انعام میں آپ سے یہ بھی کہلوایا گیا إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے ، محمد نے بھی نافرمانی کی اپنے رب سے تو عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ سے مجھے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ی نافرمانی کرنا جہاں تک خدا تعالیٰ کی اس محبت کو ہم دیکھتے ہیں جو آپ کے ساتھ تھی جہاں تک آپ کے عشق کو دیکھتے ہیں جو اپنے محبوب خدا کے ساتھ تھا بالکل ناممکن ہے۔یہ اعلان کیوں کیا گیا ؟ ہمارے لئے کیا گیا۔ہمیں بتانے کے لئے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہم کہلواتے ہیں انّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ تو تم اپنی فکر کرو۔اس کے بعد ہم آتے ہیں سورۃ یونس میں وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَتِ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن مبین کی جو ایت بینت ہیں جب ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو سننے والوں میں سے ایک جماعت ایسی ہے جو ان آیات بینات کو سن کر انہیں سمجھنے کی کوشش کر کے، ان آیات بینات کی ہدایت پر عمل کر کے، جن راہوں کی نشاندہی وہ کر رہی ہیں ان راہوں پر چل کے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی بجائے اور اپنی فطرت کی جو صحیح استعداد میں ہیں ان کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا نور حاصل کر کے راہ مستقیم پر چلنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔تو قال الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا آیات بینات قرآن مبین نے پیش کر دیں انسان کے سامنے لیکن انسانوں میں سے بعض ایسے ہیں جو کہ خدا تعالیٰ سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کیا ہوا ہے انہوں نے۔جو دھر یہ ہیں یا جن کا تصور اللہ تعالیٰ کے متعلق ایک دھندلا سا اور غلط ہے وہ اس کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت نہیں رکھتے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سارا کچھ خدا تعالیٰ نے نازل نہیں کیا۔یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے بنا لیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے یہ قرآن کریم بنالیا ہے تو اس میں تبدیلی بھی پیدا کر سکتے ہیں اس کی بجائے بدل کے کوئی اور کتاب بھی ہمارے سامنے رکھ سکتے ہیں تو ایسے لوگ جو ہیں وہ کہتے ہیں انتِ بقرانِ غَيْرِ هذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آیات بینات سن کے ان سے فائدہ