خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 561
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۶۱ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء بقا کے لئے اور اپنی نشو و نما کے لئے اور اپنی بھر پور زندگی کے لئے جو کچھ بھی چاہیے وہ فَاطِرِ السموتِ وَالْأَرْضِ ہی کی طرف سے ملتا ہے۔اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، کوئی بغیر استثنا کے کہ جس نے تمہیں کوئی ایسی چیز دی ہو جو خدا نے نہیں دی۔سب کچھ خدا نے دیا۔کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے تم وہ پاؤ جو تم اللہ سے ، اپنے پیدا کرنے والے رب سے نہ پاسکو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ یہ اعلان کر دو کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے اَن أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ اَسْلَم کہ میں اس اطاعت گزار گروہ میں سے جو میری بعثت کے بعد امت محمدیہ کہلائے گی اور اس اُمت میں جو اطاعت گزار ہوں گے۔سب سے بڑا اطاعت گزار، فرمانبردارسب سے بڑا مسلمان ہوں۔یہ اعلان کر دو کہ یہ حکم ہے کہ میں ایسا بنوں سب سے بڑا مسلمان بنوں یعنی جس قسم کی اطاعت کے نظارے میری اُمت مجھ میں دیکھے وہ ایسے ہوں کہ کوئی اور انسان اس قسم کی فدائیت کے اور ایثار کے نظارے خدا تعالیٰ کے سامنے جو وہ فدائیت اور ایثار کے اعمال بجالا رہا ہو کسی کو نظر نہ آئیں۔سب سے بڑا، سب سے بہتر مسلمان ، سب سے زیادہ اطاعت گزار اور فرمانبردار بنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور دوسرے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی قسم کا بھی میں شرک نہ کروں۔شرک صرف ظاہری نہیں ہوتا۔شرک باطنی بھی ہے۔شرک صرف یہ نہیں کہ کسی کی پرستش کی جائے شرک یہ بھی ہے کہ کسی سے ایسی امید رکھی جائے جو غیر اللہ سے نہیں رکھنی چاہیے۔شرک یہ بھی ہے کہ انسان خدا سے سب کچھ پانے کے بعد یہ سمجھنے لگے کہ اپنی ذات میں میرے اندر کوئی خوبی یا بڑائی یا حسن یا طاقت ہے۔شرک یہ بھی ہے کہ ہم دوائی کے متعلق یہ سمجھیں کہ اس نے ہمیں شفا دی۔شرک یہ بھی ہے کہ انسان غلطی خود کرے اور مرضت نہ کہے کہ میں اپنی غفلت اور گناہ کے نتیجہ میں بیمار ہوا بلکہ اپنی مرض کو، اپنی تکلیف کو ، اپنی پریشانی کو اپنے محسن رب کی طرف اپنی حماقت کے نتیجہ میں منسوب کرنا شروع کر دے۔ہزار ہا قسمیں شرک کی ہیں۔بعض شرک کی ایسی قسمیں ہیں جن سے پر ہیز کرنے کا حکم عامتہ الناس کو ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا عامتہ الناس کو کہ بوڑھی عورتوں کی طرح کا ایمان لے آؤ خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے گا لیکن وہ