خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 560
خطبات ناصر جلد ہشتم 1ܬ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء انّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ - قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلُوتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا ادريكُم بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔(یونس : ۱۶، ۱۷) اس کا ترجمہ تفسیر صغیر کا یہ ہے قُلْ اَغَيْرَ اللهِ اتَّخِذُ وَلِيًّا تو کہہ کیا میں اللہ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے کوئی اور دوست بناؤں حالانکہ وہ (سب انسانوں کو ) کھلاتا ہے اور (کسی کی طرف سے) اسے رزق نہیں دیا جاتا۔کہہ دے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے بڑا فرمانبردار بنوں اور یہ کہ (اے رسول ) تو مشرکوں میں سے مت بنیو۔تو کہہ دے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔جس پر سے وہ (عذاب) ٹلایا گیا تو ( سمجھ لو کہ ) اس دن اس پر خدا نے رحم کر دیا۔اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنت اور جب انہیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جولوگ ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہہ دیتے ہیں کہ (اے محمد ) تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آ۔یا اس میں ( ہی کچھ ) تغیر و تبدل ) کر دے۔تو (انہیں) کہہ ( کہ یہ ) میرا کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے (کوئی) تغیر و تبدل ) کر دوں۔میں ( تو ) جو ( کچھ ) مجھ پر (وحی سے حکم نازل) کیا جاتا ہے اسی کی پیروی کرتا ہوں اور اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے ( ہولناک ) دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ( کہ مجھے نہ آ پکڑے )۔قُلْ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُه عَلَيْكُم اور تو (انہیں) کہہ کہ اگر اللہ کی ( یہی ) مشیت ہوتی ( کہ اس کی جگہ کوئی اور تعلیم دی جائے ) تو میں اسے تمہارے سامنے پڑھ کر نہ سنا تا اور نہ وہ (ہی ) تمہیں اس (تعلیم) سے آگاہ کرتا۔چنانچہ اس سے پہلے میں ایک عرصہ دراز تم میں گزار چکا ہوں کیا پھر ( بھی ) تم عقل سے کام نہیں لیتے۔سورۃ انعام کی جو آیات ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے نہ آسمان پیدا ہو گئے ، نہ زمین معرض وجود میں آئی اور آسمانوں اور زمین پر جب تم غور کرو جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ( الجاثیۃ : ۱۴) کہ اے انسانو! تمہیں اپنی