خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 517
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۱۷ خطبه جمعه ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۹ء اپنے چھپے ہوئے خزانوں کو باہر نکال کے پھینک رہی ہے بڑی کثرت کے ساتھ نئے سے نئے علوم جو ہیں وہ پیدا ہورہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ ہر ماہ ساری دنیا کے نئے جو Points معلم اور محقق جو ہے، نکالتا ہے دنیوی میدانوں میں وہ بھی ہزاروں لاکھوں ہیں اور ہر روز ہی کہیں نہ کہیں خدا تعالیٰ روحانی نشان اپنے فیضانِ نبوی کے نتیجہ میں ظاہر کر رہا ہے اور دنیا علم کے اس میدان میں آگے چل رہی ہے کہ جب یہ میدان آخر میں اپنی منزل کو پہنچتا نظر آئے گا انفرادی حیثیت میں اور اجتماعی حیثیت میں تو اس وقت انسان اس حقیقت کو پالے گا کہ اللہ ہی اللہ ہے۔مولا بس۔خدا تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے وہ اس کائنات کی بنیاد بنتا ہے اور اسی پر تمام علوم کی عمارت تعمیر ہوئی ہے اور اسی سرچشمہ سے ہر نور نکلتا ہے۔اللہ نُورُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ٣٦) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے اور ہماری نسلوں کو کہ زیادہ سے زیادہ ہم ان حقائق کو حاصل کرنے والے ہوں جو واقع میں حقائق ہیں۔جن میں کوئی کھوٹ نہیں۔جن میں کوئی جھوٹ نہیں۔جن میں کوئی ملاوٹ نہیں۔جن میں کوئی اندھیر نہیں۔جن میں کوئی ظلمات نہیں۔وہ جونور سے نکلے ہمارے اندر نور پیدا کرے اور ہمارا ملاپ کر دے اس وجود کے ساتھ جو نور ہی نور ہے۔آمین از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )