خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 516
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۱۶ خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء کام کرتی ہے، قلم کچھ ظاہر کرنے کا ، کچھ جو خیالات ہیں لکھنے والے کے ان کو قرطاس پر ظاہر کرنے کا کام کرتی ہے قلم۔پھر وہ اوراق جو ہیں بڑے بلند علوم کے۔بڑی اخلاقیات پر۔قرآن کریم کی تفاسیر کی گئیں اور قرآن کریم کے جو خزانے ہیں وہ تو نہ ختم ہونے والے ہیں۔چودہ سو سال میں ہمارے بزرگ علماء، اولیاء اللہ تعالیٰ جو معلم حقیقی ہے اس سے سیکھا اور پھر قلم سے، زبان سے بھی پہلا جو معنی ہے اِقرا کا لیکن قلم سے بھی انہوں نے کام لیا اور کتب میں وہ علوم، اسرار روحانی جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے حاصل کئے تھے لوگوں تک پہنچائے اور لکھوکھہا ایسی کتابیں دنیا میں لکھی گئیں جو انسان کی فلاح اور بہبود اور اس کے آرام اور سکون اور اس کے قلبی اطمینان اور اس کی ذہنی خلش کو دور کرنے والی اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو دکھانے والی ، اللہ تعالیٰ تک پہنچنے میں انسان کی مدد کر نے والی تھیں۔تو اعلان کیا گیا کہ ایک انقلاب عظیم سیکھنے سکھانے میں بعثت نبوی کے ساتھ شروع ہورہا ہے اور وہ الَّذِى عَلَمَ بِالْقَلَمِ خدا تعالیٰ نے اعلان کیا کہ اب میں قلم کے ذریعہ سے علم کے میدانوں میں انسان کی زندگی میں ایک انقلاب بپا کروں گا اور کتا میں لکھی جائیں گی اور کائنات کے جو حقائق ہیں، حقائق زندگی جو ہیں انسان کے متعلق ، دوسری آیات ربانی کے متعلق وہ لکھنے والا ایک جگہ پر ہوگا اور اس کے خیالات پہنچ جائیں گے۔کتابوں کے ذریعہ ہزا رہا ہزار ہا میل پر۔الَّذِی عَلَم بِالقلم قلم کے ساتھ ان علوم کو رائج کرنے کے زمانے کا اعلان کیا گیا اور یہ بتا یا گیا کہ یہ جو ہے یہ صرف پرانی باتیں نئے نسخوں میں نئی کتابوں میں نئی تالیف میں لکھی جا کر دنیا میں نہیں پھیلیں گی۔عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ اور ہر صدی اس بات پر گواہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان عظیم جو کیا تھا کہ عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَم يَعْلَمُ۔کہ انسان کو اس نے وہ علم سکھا یا جسے وہ پہلے نہیں جانتا تھا حقیقتا صحیح ہے ہر صدی میں نئے علوم نکلے روحانی بھی اور مادی لحاظ سے بھی اور انسان ترقی کرتا ہوا اس زمانے تک پہنچ گیا جس کے متعلق یہ کہا گیا تھا۔۔اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا - (الزلزال : ۲ ، ۳) کہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ زمین -