خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 471 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 471

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۷۱ خطبہ جمعہ ۲۳ /نومبر ۱۹۷۹ء حق میں استعمال ہوئی تو کامیاب ہوئی۔اس سے عقل یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ جو ان کی کوشش نہ ایثار کا نتیجہ ہے وہ ان کی قوت اور استعداد کا نتیجہ نہیں۔اگر یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی استعداد کا نتیجہ ان کی اپنی ہی طاقتوں کا نتیجہ تھا اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا نتیجہ نہ تھا۔وہ جو تاریخ نے دیکھا ان کے دورِ خلافت میں اگر یہ ان کی طاقتوں کا نتیجہ تھا تو جب وہ مخالفت کو انتہا تک پہنچارہے تھے اور دشمنی ان کی حدود کو پھلانگ رہی تھی اسلام کے خلاف اس وقت ان کی صلاحیتیں اور طاقتیں کیوں بے نتیجہ رہیں ، نا کام ہو ئیں۔طاقت تو وہی تھی ، عمر تو وہی تھے۔اپنی ساری طاقتوں اور استعدادوں کے ساتھ ، مگر پہلی کوشش ناکام ہوئی جو اسلام کے خلاف تھی۔اسی عمر کی وہ قو تیں اور استعدادیں جب اسلام کے حق میں استعمال ہو ئیں تو کامیاب ہوئیں اور بڑی شان کے ساتھ کامیاب ہو ئیں۔ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ جب حضرت عمر کی کوششیں شان کے ساتھ کامیاب ہو ئیں تو یہ شان خدا تعالیٰ کی رحمت تھی ، حضرت عمر کی قوتوں اور استعدادوں کی نہیں تھی۔اڑھائی ہزار سال تک ایک قسم کا وقف تھا۔بنی اسماعیل میں جو جاری تھا کچھ غلط خیال بھی ان میں پیدا ہوئے لیکن بتدریج وہ طاقتیں ترقی کرتی چلی گئیں۔جب ابتدا ہوئی اس وقف کی ا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں اور بعد میں آنے والے انبیاء کے زمانہ میں تو ان کو مخاطب کر کے یہ نہیں کہا گیا تھا اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ أَمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ (التوبة: 19) لیکن انہیں کی نسلیں فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ (مریم :۶۰) کے مطابق اور اس میں خدا تعالیٰ نے ایک حقیقت بیان کی ہے بعد میں آنے والی نسلوں کی۔ان کو مخاطب کر کے قرآن کریم مذکورہ الفاظ میں ان سے مخاطب ہوا۔خانہ کعبہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں جو عظیم تحریک بنی نوع انسان کے دلوں کو خدائے واحد ویگانہ کے لئے جیتنے کی جاری ہوئی اس کے مختلف پہلو جو تھے ، ان کا تعلق مسجد حرام اور اس بیت اللہ کے ساتھ ہے۔اس پر میں نے بہت سے خطبے ایک وقت میں دیئے تھے اور تئیس مقاصد تعمیر بیت اللہ اس میں میں نے بیان کئے وہ رسالے کی شکل میں اکٹھے چھپ چکے ہیں۔بعض نے پڑھے ہوں گے۔یادر کھے ہوں گے۔بعض نے پڑھے