خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 470 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 470

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۷۰ خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۷۹ء حضور پیش کر دینا ہے، اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ہم عاجز بندے اور کر بھی کیا سکتے تھے سوائے اس کے کہ عاجزی کے ساتھ پچھلے چند دن ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں گزارے اور اس سے اس کی رحمت کے طالب ہوئے اور اس سے ہمیشہ کے لئے ایسے حالات پیدا ہو جانے کے طالب ہوئے کہ کسی فسادی کو کبھی بھی آئندہ اس قسم کی جرات کرنے کا حوصلہ نہ ہو۔میں نے بتایا ہے کہ مسجد حرام یا بیت اللہ جو ہے اس کا تعلق صرف مناسک حج کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم بعثت کے ساتھ ہے اور اس کا تعلق بنی نوع انسان کے لئے عظیم رحمتوں کے پیدا کر دینے کے ساتھ ہے۔خانہ کعبہ میں بسنے والی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولا د کو قریباً اڑھائی ہزار سال تربیت دی گئی اور بتدریج ان کی قوتوں اور استعدادوں کو اس رفعت تک پہنچایا گیا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو ان میں وہ لوگ پیدا ہوئے اور جوں جوں وہ لوگ اسلام میں داخل ہوئے انہوں نے ان ذمہ داریوں کو ، اس عظیم بوجھ کو ( جو بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے قدموں میں انہیں جمع کر دینے کے لئے تھا) اٹھانے کی جو طاقت دی گئی تھی اس کا شاندار مظاہرہ کیا اور خدا کی راہ میں وہ قربانیاں دیں، اللہ تعالیٰ پر اس قسم کا تو کل انہوں نے کیا کہ انسانی آنکھ ورطہ حیرت میں پڑ گئی کہ یہ کس قسم کی قوم اور کیسے لوگ ہیں۔ایک وقت تک ان میں سے بہتوں نے مخالفت کی اور چونکہ قو تیں اور استعدادیں انتہا تک پہنچ چکی تھیں اپنی نشو و نما میں ، انہوں نے مخالفت میں بھی اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچایا تا کہ دنیا اس سے یہ سبق لے کہ جب خدا کی راہ میں قربانیاں دینے والوں نے قربانیاں دیں اس کے اچھے نتائج نکلے۔بنی نوع انسان کے لئے تو وہ ان کی قوتوں اور استعدادوں اور قربانیوں کے نتائج نہیں تھے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تھی کہ اس نے ان قربانیوں کو قبول کیا اور اپنے منصوبہ کے مطابق جو تد بیر وہ جاری کرنا چاہتا تھا اس کو جاری کرنے کے لئے اچھے نتائج نکال دیئے کیونکہ وہی قوت اور استعداد اور وہی طاقت جب اسلام کے خلاف استعمال ہوئی تو نا کام ہوئی۔وہی قوت اور استعداد جب اسلام کے