خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 422
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۲۲ خطبہ جمعہ ۱۹/اکتوبر ۱۹۷۹ء ایسی استعدادیں پیدا کیں جو ان مادی اشیاء سے استفادہ کرتی ہیں۔یہ استعدادیں صرف انسان میں نہیں بلکہ ہر چیز دوسرے سے استفادہ کرنے والی ہے اور دوسرے کے ساتھ ایک نہایت حسین اور منطقی جوڑ رکھتی ہے۔ساتھ لگی ہوئی ہے تعلق رکھتی ہے مثلاً گندم کے دانے میں یہ طاقت اللہ تعالیٰ نے رکھی کہ وہ زمین سے اپنی خوراک حاصل کرے اور پودا بنے اور اس میں قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ اتنی طاقت ہے کہ ایک دانہ سات سو دانے تک پیدا کر سکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ گوانسانی علم ابھی تک وہاں نہیں پہنچا۔اسی طرح دوسری مادی اشیاء اور حیوانات ہیں اور انسان ہے لیکن انسان ان طاقتوں اور استعدادوں میں نمایاں ہو کر اس رنگ میں ہمارے سامنے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ ساری طاقتیں عطا کر دیں جن کے نتیجہ میں وہ غیر انسان کی تمام صفات سے استفادہ کر سکتا ہے اور انسان کا علم ہر روز ترقی پذیر ہے اور ہر روز ہی دانا محقق اور سائنسدان اس حقیقت پر قائم ہوتا ہے کہ ابھی تو میں علم کے سمندر کے کنارے پر کھڑا ہوں اور جو مجھے نہیں معلوم اس کی کوئی انتہا نہیں۔انسانی زندگی کی جو بنیادی حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ وہ یہ طاقت رکھتا ہے۔اسے یہ طاقت دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو چاہے تو جذب کر سکتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ جذب کرے اور اس کے لئے کوشش کرے اور مجاہدہ کرے اور جو طریق قرآن کریم نے اس کا بتایا وہ دعا ہے۔قرآن کریم نے دعا پر بیسیوں آیات میں بہت کچھ بیان کیا اور ہر جگہ ایک نئے پہلو سے اس پر روشنی ڈالی۔قرآن کریم نے ایک جگہ یہ فرمایا :- وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ (الروم : ۳۴) سورہ روم کی یہ آیت ہے کہ جب انسان کو تکلیف پہنچے، مضرت ہوا اور جیسا کہ دوسری جگہ اس کی وضاحت آئے گی۔سب دروازے تکلیف سے نجات کے بند ہو جائیں اور مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ جائے اور ہر طرف سے وہ مایوس ہو جائے۔اس وقت جب وہ دعا کرتا ہے تو وہ اس کے تذلل کے جذبات ہوتے ہیں۔وہ جھکتا ہے خدا کے حضور اور خدا سے کہتا ہے کہ اے میرے رب ! ہر طرف سے میں دھتکارا گیا تو مجھے مت دھتکار اور میری دعاؤں کو سن اور میری تکالیف کو دور کر اور میری ضرورتوں کو پورا