خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 390
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۹۰ خطبہ جمعہ ۲۸ ستمبر ۱۹۷۹ء دنیا کا معاشرہ ایک کروڑ گنا شاید ارب گنا زیادہ حسین ہو جائے آج کے معاشرہ سے لیکن محسن تو انسان کے سامنے اسلامی تعلیم میں پیش کیا گیا لیکن اسے قبول کرنے میں وہ ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔پانچویں ہمیں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ خائن کو ، خیانت کرنے والے کو اپنے پیار سے محروم کر دیتا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا جو خائن کی ، خیانت کرنے والے کی طرفداری کرنے والا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے پیار سے، اس کی محبت سے اس کی نعمتوں سے، اس کی طرف سے آسمانوں سے آنے والی عزت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور چونکہ خیانت کرنے والے خدا تعالیٰ کے پیار سے محروم کر دیئے جاتے ہیں، چھٹی بات ہمیں یہ بتائی ان آیات میں کہ جو خیانت کرنے والا ہے وہ اپنی تدبیر اور کوشش میں ناکام ہوتا ہے۔خیانت کرنے والے جس مقصد کے حصول کے لئے خیانت کرتے ہیں حقیقی طور پر اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔مثلاً چور بھی خیانت کرنے والا ہے۔دوسرے گھر میں گھستا اور بغیر حق کے ڈاکہ مارتا ہے دوسرے کے مال پر۔نہ اس کی کوئی عزت ، نہ اس کے مال میں کوئی برکت۔کروڑوں کی چوری کرنے والے بھی فقیروں سے بھی گندے کپڑوں کے اندر پھرتے دیکھے گئے۔پھر ہر وقت دل کو دھڑکا۔شاید خدا کے خوف سے وہ دل نہ دھڑکتے ہوں لیکن انسان کے خوف سے تو ضرور دھڑکتے ہیں۔اندر کی ضمیر ان کو جھنجھوڑتی ہے کہ تم نے کیا کیا۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جو حقیقی کامیابی ہے اس میں ایک خیانت کرنے والا کامیاب نہیں ہوسکتا۔حقیقی کامیابی اسے مل نہیں سکتی اور وہ نا کام ہوتا ہے۔یہ بہت ساری باتیں میں نے ان آیات میں سے نکال کر آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔کسی ایک حکم میں بھی مومن اور کافر میں بحیثیت انسان فرق نہیں کیا گیا۔یہ نہیں کہا گیا کہ ایک مومن کو تو یہ حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خیانت نہ کر لیکن کا فروں کو ہم کہتے ہیں بے شک خیانت کر وہ تمہیں پکڑ کوئی نہیں ہوگی۔یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مومنوں کے لئے اُسوہ ہیں۔اگر آپ کی بعثت اور رسالت كافة للناس ہے تو آپ کا مقام اُسوہ ہونے کا بھی بنی نوع انسان کے لئے ہے کسی ایک گروہ کے لئے نہیں۔یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ مسلمان کے مال میں خیانت نہ کر