خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 389 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 389

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۸۹ خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۷۹ء میں بڑا معزز ہے۔اپنی پیدائش کے لحاظ سے، اپنی خلق کے لحاظ سے، اپنی طاقتوں اور قوتوں کے لحاظ سے ، رفعت کے حصول کے لئے جو ممکن راہیں اس پر کھولی گئی ہیں ان کے لحاظ سے ، خدا تعالیٰ کے پیار کو جس طرح وہ حاصل کر سکتا ہے کوشش کر کے اس کے لحاظ سے إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (النساء : ۱۴۰) حقیقی عزت تو وہ ہے جو کوئی شخص اپنے ربّ کریم کی نگاہ میں رکھتا ہے۔اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے مادی اور غیر مادی سامان پیدا کئے ہیں جو عزت کے حقوق قائم کرتے ہیں اور وہ سامان ہر انسان کو ملنے چاہئیں۔حقارت کی نظر نہیں ڈالنی۔حقارت کا کلمہ نہیں بولنا۔حقارت کا سلوک نہیں کرنا۔اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھنا۔کسی کے خلاف تکبر نہیں کرنا۔پھر ایک بڑا حق باہمی امانتوں کا جو قائم کیا گیا ہے، وہ اجرت کے حقوق ہیں۔ایک شخص اپنا وقت دوسرے کو دیتا ہے اور اس Understanding اس معاہدہ پر اس عہد کے نتیجہ میں کہ وہ اس کے وقت کے بدلے میں اس کو یہ دے گا تو جو بدلہ میں دینا ہے وہ اس کی امانت ہوگئی نا۔یہ امانتیں پڑی رہتی ہیں بعض دفعہ۔یا اُجرت کے بعض حصے سال میں ایک یا دو دفعہ مزدور کو بھی اس آج کل کی اقتصادی دنیا میں بونس کی شکل میں ملتے ہیں۔جب تک ان کو نہیں ملتے وہ بطور امانت کے پڑے ہوئے اس لمیٹڈ کمپنی یاکسی اور سرمایہ کاری کے یونٹ میں۔پھر اہلیت کے حقوق ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہر فرد واحد کو، مرد ہو یا عورت بہت سی اہلیتیں دے کر ، استعداد میں عطا کر کے ، قوتیں دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ہر شخص کو اس کی اہلیت کے مطابق ملنا چاہیے۔یہ اس کی امانت ہے۔قرآن کریم نے دوسری جگہ کہا ہے کہ جو اہل ہیں اپنی اہلیت کے نتیجہ میں اہل بن گئے وہ تم ان کی امانت ان کو دو۔چوتھے یہ فرمایا کہ جو خیانت کرنے والے ہیں ان کی طرفداری نہ کرو۔اتنا فساد پیدا ہوا ہے دنیا میں خدا تعالیٰ کے اس حکم کو نہ مان کر۔خیانت کرنے والوں کی پناہ بن کر ، ان کے وکیل بن کر ، ان کی طرفداری کر کے کہ اس نقصان کا اندازہ بھی انسانی عقل نہیں لگا سکتی اور یہ ظالمانہ کھیل دنیا کے ہر ملک میں ہی کھیلا جارہا ہے، کسی جگہ تھوڑا کسی جگہ زیادہ۔اگر انسان اس اصول کو مضبوطی سے پکڑ لے کہ چونکہ خیانت نہیں کرنی اس واسطے خیانت کرنے والے کی طرفداری بھی نہیں کرنی تو