خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 323 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 323

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۲۳ خطبه جمعه ۱۰ راگست ۱۹۷۹ء کی زبان پر ہم سے جو تو نے وعدہ کیا ہے ہمیں وہ سب کچھ دے دے۔إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ (ال عمران : ۱۹۵) تو اپنے وعدے کا پکا ہے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔پھر بھی یہ دعا سکھائی۔قرآن کریم میں جو عَلیٰ رُسُلِک کے مطابق وعدے دیئے گئے ہیں اس میں بشارت کا لفظ 66 بھی استعمال کیا۔بعض دوسرے الفاظ استعمال کئے اور اتنا مَا وَعَدْتَنَا میں جو وعدہ “ کا لفظ ہے ما وعدتنا اس لفظ کے ساتھ بھی قرآن کریم میں بہت سے وعدوں کا ذکر ہے۔اس آیت کی روشنی میں پھر ایک دنیا کھلتی ہے دعاؤں کی۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سے وعدے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے وعدہ کے لفظ کے ساتھ اور جن کی بشارتیں دی ہیں۔یہاں پانچ باتیں رَبَّنَا وَ اتِنا میں کہی گئی تھیں۔یعنی اس آیت میں سورۃ الِ عمران کی آیت ہے۔ایک یہ کہ رسولوں کی زبان پر جس کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب ہمیں دے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ وعدے کیا ہیں۔دوسرے اس سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے کہ قرآن کریم میں اگر کہیں یہ ذکر ہے کہ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کی اُمت کے متعلق یہ وعدہ تھا تو چونکہ وہ سارے پہلے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور ان کی شرائع اوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتب قرآن کریم کا ہی ایک حصہ تھیں۔اس لئے ان وعدوں کا ذکر کر کے ہمارے سامنے یہ بات رکھی اور اس آیت میں اس کو واضح کیا کہ وہ وعدے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُمت کے ساتھ تھے تمہارے ساتھ بھی وہ وعدے ہیں۔دوسری بات اس آیت میں یہ بتائی گئی کہ اگر یہ وعدے پورے نہ ہوئے تو قیامت کے روز ہم ذلیل ہو جائیں گے۔تیسرے یہ بات بتائی گئی ہے اس آیت میں کہ اے خدا تو تو صادق الوعد ہے لا تُخْلِفُ المیعاد تجھ سے وعدہ خلافی کا امکان ہی نہیں۔پھر یہ سوال اُٹھتا تھا کہ جب خدا تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور وعدے دے دیئے گئے تو پھر اس دعا کی کیا ضرورت تھی کہ اتِنَا مَا وَعَدتَنَا عَلَى رُسُلِكَ تو جاننا چاہیے کہ جہاں وعدے دیئے گئے ہیں وہاں کچھ شرائط بھی رکھی گئی ہیں، کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کی گئی ہیں تو یہ بات بتائی گئی کہ یہاں اس میں کہا گیا کہ اے خدا جو شرائط اور ذمہ داریاں ان وعدوں کے ساتھ تھیں ان کے پورا کرنے کی ہمیں توفیق دے تاکہ تیرے