خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 276
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبہ جمعہ ۱۳ / جولائی ۱۹۷۹ء دونوں میں بڑی وسعت ہے۔ایک کی ابتدا میں پہلے کر چکا ہوں اور دوسرے حصہ کی ابتدا مختصراً میں آج کر دوں گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ۱۰۸) عالمین میں صرف انسان نہیں بلکہ ہر غیر انسان مخلوق بھی عالمین میں شامل ہے اور ایک پہلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہر مخلوق کے حقوق اس تعلیم نے قائم بھی کئے اور ان کی حفاظت کا حکم بھی دیا اور ان کی حفاظت کے سامان بھی پیدا کئے۔اس عالمین میں انسان بھی شامل ہیں۔غیر انسان بھی شامل ہیں۔جن کے لئے آپ رحمت ہیں۔اس کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ انسان کے متعلق فرمایا کہ ہم نے حافَةُ لِلنَّاسِ (سبا: ۲۹) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھجوایا ہے اور یہ آیا کہ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) اے انسانو! سنو!! کہ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں یہ جوسب انسانوں کی طرف رحمت بن کے آپ آئے۔اس سے آگے دوسوتے پھوٹتے ہیں اور ان میں سے ایک کے متعلق میں پہلے ابتدا کر چکا ہوں اور وہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک خدا تعالیٰ توفیق دے۔اور وہ یہ ہے إنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اور كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (سبا: ۲۹) اس کی تفصیل میں جب ہم جاتے ہیں تو بنیادی چیز جو ہمیں یہ بتائی گئی ہے کہ اسلام انسان کو کہتا ہے کہ میں تجھے آپس میں لڑنے نہیں دوں گا پیار سے زندگی کے دن گزارو۔دنیا نے دنیوی لحاظ سے بڑی ترقی کی لیکن انسان نے انسان سے پیار کرنا ابھی تک نہیں سیکھا کیونکہ اس دنیا کے انسان نے جو د نیوی ترقیات کر چکا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی۔یہ وہ پہلا مضمون ہے جس کی میں ابتدا کر چکا ہوں۔دوسرا سوتا جو اس اعلان سے پھوٹا ہے کہ آپ رحمت ہیں عالمین کے لئے اور مبعوث ہوئے ہیں بنی نوع انسان کے لئے ، سارے کے سارے انسانوں کے لئے ایک رحمت بن کر آپ آئے۔اس مضمون میں بنیادی چیز اسلام نے یہ قائم کی کہ انسان، انسان میں کوئی فرق نہیں سارے انسان برابر ہیں اور قرآن کریم نے بہت جگہ اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ایک تو کہا گیا