خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 3

خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۵؍جنوری ۱۹۷۹ء کام کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر کام کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔جس نے سفر کرنا ہے اس نے چوری کر کے اور ٹکٹ خریدے بغیر تو سفر نہیں کرنا یہ تو جماعت احمدیہ کی ریت ہی نہیں ہے۔معلمین کے سفروں پر خرچ آتا ہے جو کہ دیہات میں جاتے ہیں اور پھرتے ہیں اور قرآن کریم ناظرہ پڑھاتے ہیں اور بعض کو ترجمہ سے پڑھاتے ہیں اور عام مسائل بتاتے ہیں۔یہ چھوٹی سطح پر بچوں کی ابتدائی تربیت ہے جنہوں نے کہ پہلے اپنی بدقسمتی سے اسلامی تعلیم حاصل نہیں کی ان کو وہ ابتدائی مسائل سکھاتے ہیں۔یہ تدبیر کی دنیا ہے اور تدبیر کی دنیا لازمی طور پر تدریجی ارتقا کی دنیا ہوتی ہے اور تدریجی ارتقالا زما ابتدائی باتوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتا ہے جتنی کہ بہت آگے نکلنے کے بعد ضروری باتوں کو دی جاتی ہے اس لئے معلمین وقف جدید اگر چہ ابتدائی مسائل کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ابتدائی مسائل کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے مثلاً یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ بازار کے جو آداب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں ربوہ میں بھی بہت کم لوگ ان سے واقفیت رکھتے ہیں۔ربوہ کے نظام کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور معلمین وقف جدید کو تو بہت سی کتابیں چھپوا کر یا نوٹ لکھوا کر یہ مسائل بتانے چاہئیں تا کہ ہر ایک کے دماغ میں یہ ڈالا جائے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اسلام وحشی کو مہذب انسان بنانے کے لئے اور مہذب انسان کو با اخلاق انسان بنانے کے لئے اور با اخلاق انسان کو باخدا انسان بنانے کے لئے آیا ہے۔اس کا پہلا مرحلہ تادیب ہے یعنی ادب سکھانا اور انسان کے لئے ہر مرحلہ میں سے گزرنا، اس کے مسائل کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔اسلام کی تعلیم میں کوئی بھی ایسی چھوٹی بات نہیں اور اسلام کے احکام میں سے کوئی بھی ایسا چھوٹا حکم نہیں جسے چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکے اور اس کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والا نہ ہو۔پس وقف جدیدا چھا کام کر رہی ہے لیکن اس کے کام میں بھی زیادہ محسن پیدا ہونا چاہیے اور جماعت کو کام کرنے والوں کی تعداد بڑھانی چاہیے اور کام کرنے کے لئے جس سرمائے کی ضرورت ہے وہ مہیا ہونا چاہیے۔یہ ترقی کر رہے ہیں لیکن میرے پاس بعض دفعہ بعض دیہاتی جماعتوں کی طرف سے بڑے غصے کے خطوط آ جاتے ہیں کہ ہم نے کئی بار وقف جدید کو لکھا ہے مگر وہ ہمارے