خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 2
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبہ جمعہ ۵؍جنوری ۱۹۷۹ء اس وقت ایک تو میں اس لئے آیا ہوں کہ یہ ہجری شمسی سال کا پہلا جمعہ ہے اور وقت کی ہر تبدیلی دعاؤں کا مطالبہ کرتی ہے۔ہماری زندگی کی ہر صبح یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ دن ہمارے لئے مبارک کرے اور آسمانی برکتوں کا نزول اس میں پہلے دنوں سے زیادہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح اٹھنے کی دعائیں بھی سکھائی ہیں اور ہر رات ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم دعائیں کریں کہ اے خدا! وہ لوگ جو اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ان کے لئے بھی روشنی کا سامان پیدا کر۔خدا تعالیٰ نے زمانے کو اس طرح تقسیم کر کے ہماری زندگی سے یکسانیت کو دور کر دیا ہے اور دنوں کو ہفتوں میں باندھ کر اور ہفتوں کو مہینوں میں باندھ کر اور مہینوں کو سالوں میں باندھ کر اور پھر سالوں کو صدیوں میں باندھ کر اور اس طرح زمانے کے ٹکڑے کئے ہیں ورنہ ہمیں یاد بھی نہیں رہتا کہ کب ہماری زندگی کی ابتدا ہوئی اور بسا اوقات ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کی کوئی انتہا بھی ہے اور آخر ہم نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ہمیشہ خاتمہ بالخیر کی دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔نیا سال میری طرف سے آپ سب کو احمدیوں کو بھی اور نوع انسان کو بھی مبارک ہو۔خدا کرے کہ یہ سال انسانیت کے لئے خیر و برکت کا سال ہو۔دنیوی لحاظ سے بھی اور بین الاقوامی رشتوں کے لحاظ سے بھی اور امن عامہ کے لحاظ سے بھی اور غلبہ اسلام کے لحاظ سے بھی۔دوسری بات جو میں اس وقت مختصراً کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ وقف جدید کے نئے سال کا اعلان میں عام طور پر سال کے پہلے جمعہ کے خطبہ میں کیا کرتا ہوں چنانچہ آج میں وقف جدید کے ۲۲ ویں اور دفتر اطفال وقف جدید کے ۱۴ ویں سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔وقف جدید ہماری جماعت کا ایک چھوٹا سا شعبہ ہے جسے حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کی تربیت کے لئے قائم کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور جماعت کو اس میدان میں کام شروع کرنے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی توفیق دی لیکن جیسا کہ آپ اکثر میری زبان سے سن چکے ہیں آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کا زمانہ آہستہ آہستہ پیچھے رہ گیا اور تیزی سے آگے بڑھنے کا زمانہ شروع ہو گیا۔اس میں شک نہیں کہ وقف جدید کا کام بہت محدود ہے لیکن ہر کام کے لئے