خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 168
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۶۸ خطبہ جمعہ ۷ ۱۷۲ پریل ۱۹۷۹ء سے میں اپنے نہایت ہی پیاروں کی پیاری باتیں کرنا چاہتا ہوں۔یعنی اللہ تعالیٰ کی باتیں جو ہمارا محبوب اور مقصود اور معبود ہے اور اُس عظیم ہستی اور خدا کے محبوب کی باتیں ، ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ) جنہوں نے خدا کے پیار کو بھی حاصل کیا ، انتہائی پیار کو کہ کسی اور انسان نے خدا کی محبت کے لحاظ سے اس سے بلند مقام حاصل نہیں کیا اور اتنا بڑا احسان کیا نوع انسانی پر کہ خدا کے پیار کے حصول کی تمام راہیں انسان پر آپ نے کھول دیں۔یہ زمانہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پیارے شاگرد، روحانی فرزند، آپ کے ایک غلام، ایک ایسے پیار کرنے والے کا زمانہ ہے جس نے اپنی ساری زندگی محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہو کر گزاری تا کہ آپ کے دین کو استحکام ہوا اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے کہ دینِ اسلام ساری دنیا میں الہی وعدوں کے مطابق غالب آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دو بنیادی سبق ہمیں دئے ہیں اور ان دو بنیادی اسباق کی طرف میں اپنے نو جوانوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک بنیادی سبق ہے توحید حقیقی کا ، خالص توحید کا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن عظیم انسان کے ہاتھ میں دیا اس قرآن میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو سمجھنے کی راہیں کھولیں اس کی معرفت اس کا عرفان حاصل کرنے کے جو طریقے ہیں وہ بتائے۔خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق بھی ہمیں بہت کچھ بتایا گیا اور اس کی صفات کے متعلق بھی ہمیں بہت کچھ بتایا گیا قرآن عظیم میں اور ہمارے جو اپنے رب کریم سے تعلقات ہونے چاہئیں انکے متعلق بھی بہت کچھ بتایا گیا اور ہمیں کہا گیا کہ اللہ عظیم ہستی ہے لیکن وہ اپنے بندوں سے پیار کرنا چاہتا ہے۔وہ جو سر چشمہ حیات ہے۔ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندہ رکھنے والا وہ یہ چاہتا ہے کہ ایک زندہ تعلق اس کے بندوں کا اس کے ساتھ ہو جائے۔ہمیں قرآن عظیم بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی واحد لاشریک ہے۔وہ بے مثل و مانند ہے۔نہ اس کی ذات جیسی کوئی اور ذات ، نہ اس کی صفات کسی اور میں صحیح معنی میں عظمت و جلال کے ساتھ پائی جاتی ہے۔یہ تو صحیح ہے کہ خود